سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ: الْكَرَاهِيَةِ فِي بَيْعِ الْعَصِيرِ .
باب: انگور کا رس بیچنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5716
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: كَانَ لِسَعْدٍ كُرُومٌ وَأَعْنَابٌ كَثِيرَةٌ , وَكَانَ لَهُ فِيهَا أَمِينٌ فَحَمَلَتْ عِنَبًا كَثِيرًا , فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي أَخَافُ عَلَى الْأَعْنَابِ الضَّيْعَةَ , فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَعْصُرَهُ عَصَرْتُهُ , فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ:" إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَزِلْ ضَيْعَتِي , فَوَاللَّهِ لَا أَئْتَمِنُكَ عَلَى شَيْءٍ بَعْدَهُ أَبَدًا , فَعَزَلَهُ عَنْ ضَيْعَتِهِ".
مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سعد کے انگور کے باغ تھے اور ان میں بہت انگور ہوتے تھے۔ اس (باغ) میں ان کی طرف سے ایک نگراں رہتا تھا، ایک مرتبہ باغ میں بکثرت انگور لگے، نگراں نے انہیں لکھا: مجھے انگوروں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں ان کا رس نکال لوں؟، تو سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لکھا: جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو تم میرے اس ذریعہ معاش (باغ) کو چھوڑ دو، اللہ کی قسم! اس کے بعد تم پر کسی چیز کا اعتبار نہیں کروں گا، چنانچہ انہوں نے اسے اپنے باغ سے ہٹا دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5716]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ (والد محترم) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں انگور کی بہت سی بیلیں اور درخت تھے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو بطور ذمہ دار ناظم رکھا ہوا تھا۔ ایک سال بہت پھل لگا۔ ناظم نے ان کو لکھا: مجھے خطرہ ہے انگور ضائع ہو جائیں گے۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان کا جوس نکال لیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اسے جواب میں لکھا: جب میرا یہ خط تیرے پاس پہنچے تو میری زمین سے نکل جانا۔ اللہ کی قسم! آج کے بعد میں تجھے کسی معمولی چیز کا بھی ذمہ دار نہیں بناؤں گا۔ اور واقعتاً انہوں نے اسے اپنی زمین سے معزول کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5716]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3942) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: نگراں کا مقصد تھا کہ رس نکال کر بیچ دوں، تو شاید اس وقت زیادہ تر خریدنے والے اس رس سے شراب بناتے ہوں گے، اس لیے سعد رضی اللہ عنہ نے جوس نکال کر بیچنے کو ناپسند کیا، ورنہ صرف رس میں نشہ نہ ہو تو پیا جا سکتا ہے، اور اس کو خریدا اور بیچا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5717
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ هَارُونَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , قَالَ:" بِعْهُ عَصِيرًا مِمَّنْ يَتَّخِذُهُ طِلَاءً , وَلَا يَتَّخِذُهُ خَمْرًا".
ابن سیرین کہتے ہیں کہ رس اس کے ہاتھ بیچو جو اس کا طلاء بنائے اور شراب نہ بنائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5717]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ تو انگوروں کا جوس اس شخص کو بیچ سکتا ہے جو اس سے «الطِّلَاءُ» بنائے، شراب نہ بنائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19305) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح