الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
The Book on Jana\'iz (Funerals)
7. باب مَا جَاءَ فِي تَلْقِينِ الْمَرِيضِ عِنْدَ الْمَوْتِ وَالدُّعَاءِ لَهُ عِنْدَهُ
باب: موت کے وقت مریض کو لا الہٰ الا اللہ کی تلقین کرنے اور اس کے پاس اس کے حق میں دعا کرنے کا بیان​۔
Chapter: What Has Been Related About Instructing The Sick When Dying and Supplicating For Him
حدیث نمبر: 976
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو سلمة يحيى بن خلف البصري، حدثنا بشر بن المفضل، عن عمارة بن غزية، عن يحيى بن عمارة، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " لقنوا موتاكم لا إله إلا الله ". قال: وفي الباب، عن ابي هريرة، وام سلمة، وعائشة، وجابر، وسعدى المرية وهي: امراة طلحة بن عبيد الله. قال ابو عيسى: حديث ابي سعيد حديث حسن غريب صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَعَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَسُعْدَى الْمُرِّيَّةِ وَهِيَ: امْرَأَةُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مرنے والے لوگوں کو جو بالکل مرنے کے قریب ہوں «لا إله إلا الله» کی تلقین ۱؎ کرو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابو سعید خدری کی حدیث حسن غریب صحیح ہے،
۲- اس باب میں ابوہریرہ، ام سلمہ، عائشہ، جابر، سعدی مریہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۳- سعدی مریہ طلحہ بن عبیداللہ کی بیوی ہیں۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الجنائز 1 (916)، سنن ابی داود/ الجنائز 20 (3117)، سنن النسائی/الجنائز 20 (3117)، سنن النسائی/الجنائز 4 (1827)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 3 (1445)، (تحفة الأشراف: 4403)، مسند احمد (3/3) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ تلقین سے مراد تذکیر ہے یعنی مرنے والے کے پاس «لا إله إلا الله» پڑھ کر اسے کلمہ شہادت کی یاد دہانی کرائی جائے تاکہ سن کر وہ بھی اسے پڑھنے لگے، براہ راست اس سے پڑھنے کے لیے نہ کہا جائے کیونکہ وہ تکلیف کی شدت سے جھنجھلا کر انکار بھی کر سکتا ہے جس سے کفر لازم آئے گا، لیکن شیخ ناصرالدین البانی نے اسے درست قرار نہیں دیا وہ کہتے ہیں کہ تلقین کا مطلب یہ ہے کہ اسے «لا إله إلا الله» پڑھنے کے لیے کہا جائے۔ افضل یہ ہے کہ مریض کی حالت دیکھ کر عمل کیا جائے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1444 و 1445)
حدیث نمبر: 977
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ام سلمة، قالت: قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا حضرتم المريض او الميت فقولوا خيرا، فإن الملائكة يؤمنون على ما تقولون ". قالت: فلما مات ابو سلمة اتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله إن ابا سلمة مات، قال: " فقولي: اللهم اغفر لي وله، واعقبني منه عقبى حسنة "، قالت: فقلت: فاعقبني الله منه من هو خير منه رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال ابو عيسى: شقيق هو: ابن سلمة ابو وائل الاسدي. قال ابو عيسى: حديث ام سلمة حديث حسن صحيح، وقد كان يستحب ان يلقن المريض عند الموت، قول: لا إله إلا الله، وقال بعض اهل العلم: إذا قال ذلك مرة فما لم يتكلم بعد ذلك، فلا ينبغي ان يلقن ولا يكثر عليه في هذا، وروي عن ابن المبارك انه لما حضرته الوفاة، جعل رجل يلقنه لا إله إلا الله واكثر عليه، فقال له عبد الله: إذا قلت مرة فانا على ذلك ما لم اتكلم بكلام، وإنما معنى قول عبد الله: إنما اراد ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من كان آخر قوله لا إله إلا الله دخل الجنة.(مرفوع) حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَضَرْتُمُ الْمَرِيضَ أَوِ الْمَيِّتَ فَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ يُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا تَقُولُونَ ". قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سَلَمَةَ مَاتَ، قَالَ: " فَقُولِيَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلَهُ، وَأَعْقِبْنِي مِنْهُ عُقْبَى حَسَنَةً "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فَأَعْقَبَنِي اللَّهُ مِنْهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: شَقِيقٌ هُوَ: ابْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ الْأَسَدِيُّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَانَ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُلَقَّنَ الْمَرِيضُ عِنْدَ الْمَوْتِ، قَوْلَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا قَالَ ذَلِكَ مَرَّةً فَمَا لَمْ يَتَكَلَّمْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُلَقَّنَ وَلَا يُكْثَرَ عَلَيْهِ فِي هَذَا، وَرُوِيَ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ أَنَّهُ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، جَعَلَ رَجُلٌ يُلَقِّنُهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَكْثَرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: إِذَا قُلْتُ مَرَّةً فَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مَا لَمْ أَتَكَلَّمْ بِكَلَامٍ، وَإِنَّمَا مَعْنَى قَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّمَا أَرَادَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ آخِرُ قَوْلِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم مریض کے پاس یا کسی مرے ہوئے آدمی کے پاس آؤ تو اچھی بات کہو ۱؎، اس لیے کہ جو تم کہتے ہو اس پر ملائکہ آمین کہتے ہیں، جب ابوسلمہ کا انتقال ہوا، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوسلمہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تو تم یہ دعا پڑھو: «اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة» اے اللہ! مجھے اور انہیں معاف فرما دے، اور مجھے ان کا نعم البدل عطا فرما وہ کہتی ہیں کہ: جب میں نے یہ دعا پڑھی تو اللہ نے مجھے ایسی ہستی عطا کر دی جو ان سے بہتر تھی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ام سلمہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ مستحب سمجھا جاتا تھا کہ مریض کو اس کی موت کے وقت «لا إله إلا الله» کی تلقین کی جائے،
۳- بعض اہل علم کہتے ہیں: جب وہ (میت) اسے ایک بار کہہ دے اور اس کے بعد پھر نہ بولے تو مناسب نہیں کہ اس کے سامنے باربار یہ کلمہ دہرایا جائے،
۴- ابن مبارک کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کی موت کا وقت آیا، تو ایک شخص انہیں «لا إله إلا الله» کی تلقین کرنے لگا اور باربار کرنے لگا، عبداللہ بن مبارک نے اس سے کہا: جب تم نے ایک بار کہہ دیا تو میں اب اسی پر قائم ہوں جب تک کوئی اور گفتگو نہ کروں، عبداللہ کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مراد اس سے وہی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جس کا آخری قول «لا إله إلا الله» ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔

تخریج الحدیث: «صحیح مسلم/الجنائز 3 (919)، سنن ابی داود/ الجنائز 19 (3115)، سنن النسائی/الجنائز 7 (1826)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 4 (1447)، (تحفة الأشراف: 18162)، مسند احمد (6/291، 306) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابن ماجہ/الجنائز 55 (1598)، موطا امام مالک/الجنائز 14 (42) من غیر ہذا الوجہ۔»

وضاحت:
۱؎: مثلاً مریض سے کہو اللہ تمہیں شفاء دے اور مرے ہوئے آدمی سے کہو اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1447)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.