سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الْخَادِمِ
باب: خادم کے ساتھ سلوک کرنے کے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1950
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ اسْمُهُ عُمَارَةُ بْنُ جُوَيْنٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ، قَالَ لعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: ضَعَّفَ شُعْبَةُ أَبَا هَارُونَ الْعَبْدِيَّ، قَالَ يَحْيَى: وَمَا زَالَ ابْنُ عَوْنٍ يَرْوِي عَنْ أَبِي هَارُونَ حَتَّى مَاتَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ (خادم) اللہ کا نام لے لے تو تم اپنے ہاتھوں کو روک لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
راوی ابوہارون عبدی کا نام عمارہ بن جوین ہے، ابوبکر عطار نے یحییٰ بن سعید کا یہ قول نقل کیا کہ شعبہ نے ابوہارون عبدی کی تضعیف کی ہے، یحییٰ کہتے ہیں: ابن عون ہمیشہ ابوہارون سے روایت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1950]
راوی ابوہارون عبدی کا نام عمارہ بن جوین ہے، ابوبکر عطار نے یحییٰ بن سعید کا یہ قول نقل کیا کہ شعبہ نے ابوہارون عبدی کی تضعیف کی ہے، یحییٰ کہتے ہیں: ابن عون ہمیشہ ابوہارون سے روایت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4263) (ضعیف) (سند میں ”ابو ہارون عمارة بن جوین عبدی“ متروک الحدیث راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف (1441) // ضعيف الجامع الصغير (582)
قال الشيخ زبير على زئي:(1950) إسناده ضعيف جدًا
أبو ھارون العبدي: متروك ومنھم من كذبه ،شيعي (تق: 4840)
أبو ھارون العبدي: متروك ومنھم من كذبه ،شيعي (تق: 4840)