سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب وَمِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ مَعَ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، وَعَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضٍ لَيْسَ فِيهَا مُسْلِمٌ، فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَأَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، فَقِيلَ: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ، وَتَمِيمٍ، فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ، فَحَلَفَا بِاللَّهِ لَشَهَادَتُنَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَأَنَّ الْجَامَ لِصَاحِبِهِمْ، قَالَ: وَفِيهِمْ نَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ سورة المائدة آية 106 "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بنی سہم کا ایک شخص، تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ (سفر پر) نکلا اور یہ سہمی (جو تمیم داری اور عدی کا ہم سفر تھا) ایک ایسی سر زمین میں انتقال کر گیا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا، جب اس کے دونوں ساتھی اس کا ترکہ لے کر آئے تو اس کے گھر والے (ورثاء) کو اس کے متروکہ سامان میں چاندی کا وہ پیالہ نہ ملا جس پر سونے کا جڑاؤ تھا، چنانچہ (جب مقدمہ پیش ہوا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قسم کھلائی۔ (اور انہوں نے قسم کھا لی کہ ہمیں پیالہ نہیں ملا تھا) لیکن وہ پیالہ سہمی کے گھر والوں کو مکہ میں کسی اور کے پاس مل گیا، انہوں نے بتایا کہ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے۔ تب سہمی کے وارثین میں سے دو شخص کھڑے ہوئے۔ اور انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ ہماری شہادت ان دونوں کی گواہی سے زیادہ سچی ہے۔ اور پیالہ ہمارے ہی آدمی کا ہے۔ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: انہیں لوگوں کے بارے میں «يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم» والی آیت نازل ہوئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3060]
یہ حدیث حسن غریب ہے، یہ ابن ابی زائدہ کی روایت ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوصایا 35 (2780)، سنن ابی داود/ الأقضیة 19 (3606) (تحفة الأشراف: 5551) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3061
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ مِنَ السَّمَاءِ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَأُمِرُوا أَنْ لَا يَخُونُوا وَلَا يَدَّخِرُوا لِغَدٍ، فَخَانُوا وَادَّخَرُوا وَرَفَعُوا لِغَدٍ فَمُسِخُوا قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَدْ رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ مَوْقُوفًا، وَلَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ.
عمار بن یاسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(عیسیٰ علیہ السلام کی قوم پر) آسمان سے روٹی اور گوشت کا دستر خوان اتارا گیا اور حکم دیا گیا کہ خیانت نہ کریں نہ اگلے دن کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انہوں نے خیانت بھی کی اور جمع بھی کیا اور اگلے دن کے لیے اٹھا بھی رکھا تو ان کے چہرے مسخ کر کے بندر اور سور جیسے بنا دئیے گئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کو ابوعاصم اور کئی دوسرے لوگوں بطریق: «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار ابن ياسر» موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3061]
۱- اس حدیث کو ابوعاصم اور کئی دوسرے لوگوں بطریق: «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن خلاس عن عمار ابن ياسر» موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10348) (ضعیف الإسناد) (قتادہ مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)»
قال الشيخ الألباني: (حديث عمار) ضعيف الإسناد، (حديث ابن أبي عروبة) ضعيف أيضا
قال الشيخ زبير على زئي:(3061) إسناده ضعيف
سعيد بن أبى عروبة و قتادة عنعنا (تقدما: 30) وللحديث شواھد ضعيفة
سعيد بن أبى عروبة و قتادة عنعنا (تقدما: 30) وللحديث شواھد ضعيفة
حدیث نمبر: 3061M
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِا الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ، وَلَا نَعْلَمُ لِلْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ أَصْلًا.
اور ہم اسے صرف حسن بن قزعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔ سفیان نے اس سند سے سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ اور یہ حسن قزعہ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ اور ہمیں مرفوع حدیث کی کوئی اصل معلوم نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3061M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: (حديث عمار) ضعيف الإسناد، (حديث ابن أبي عروبة) ضعيف أيضا
حدیث نمبر: 3062
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " يُلَقَّى عِيسَى حُجَّتَهُ وَلَقَّاهُ اللَّهُ فِي قَوْلِهِ: وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ سورة المائدة آية 116، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقَّاهُ اللَّهُ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ سورة المائدة آية 116 الْآيَةَ كُلَّهَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنا جواب القاء کیے جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جواب اپنے اس قول کے جواب میں القاء کرے گا «وإذ قال الله يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله» ”جب اللہ تعالیٰ (قیامت میں) کہے گا اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو اللہ کو چھوڑ کر؟“ (المائدہ: ۱۱۶)، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اس کا جواب یہ القاء کرے گا «سبحانك ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق» ”پاک ہے تیری ذات: میں بھلا وہ بات کیسے کہہ سکتا ہوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں ہے“ (المائدہ: ۱۱۶)۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3062]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 13531) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3062) إسناده ضعيف
سفيان بن عيينة عنعن (تقدم: 1778) وللحديث شواھد ضعفة
سفيان بن عيينة عنعن (تقدم: 1778) وللحديث شواھد ضعفة
حدیث نمبر: 3063
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: " آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ الْمَائِدَةُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرُوِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " آخِرُ سُورَةٍ أُنْزِلَتْ " إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ".
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت سورۃ المائدہ (اور سورۃ الفتح) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آخری سورۃ جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر الله والفتح» ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3063]
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: آخری سورۃ جو نازل ہوئی ہے وہ «إذا جاء نصر الله والفتح» ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8862) (حسن الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اور صحیح بخاری میں براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آخری آیت جو نازل ہوئی وہ ہے «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» (النساء: ۱۷۶) ان سب اقوال کے درمیان اس طرح تطبیق دی جاتی ہے کہ ہر ایک نے اپنی معلومات کے مطابق خبر دی ہے، اس بابت کوئی مرفوع روایت تو ہے نہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد