صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. بَابُ بَيْعِ الدِّينَارِ بِالدِّينَارِ نَسْأً:
باب: اشرفی اشرفی کے بدلے ادھار بیچنا۔
حدیث نمبر: 2178
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ الزَّيَّاتَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَقُولُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: كُلَّ ذَلِكَ لَا أَقُولُ، وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہیں ابوصالح زیات نے خبر دی، اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ دینار، دینار کے بدلے میں اور درہم، درہم کے بدلے میں (بیچا جا سکتا ہے) اس پر میں نے ان سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا کہ آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا کتاب اللہ میں آپ نے اسے پایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کا میں دعویدار نہیں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی احادیث) کو آپ لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مذکورہ صورتوں میں) سود صرف ادھار کی صورت میں ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2178]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ دینار کو دینار کے عوض اور درہم کو درہم کے عوض (برابر، برابر) فروخت کرنا جائز ہے۔ راویِ حدیث نے ان سے عرض کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ میں دیکھا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہتا کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، البتہ مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2178]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2179
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا صَالِحٍ الزَّيَّاتَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَقُولُهُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ وَجَدْتَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: كُلَّ ذَلِكَ لَا أَقُولُ، وَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی، انہیں ابوصالح زیات نے خبر دی، اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ دینار، دینار کے بدلے میں اور درہم، درہم کے بدلے میں (بیچا جا سکتا ہے) اس پر میں نے ان سے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کی اجازت نہیں دیتے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق پوچھا کہ آپ نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا کتاب اللہ میں آپ نے اسے پایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کا میں دعویدار نہیں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کی احادیث) کو آپ لوگ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (مذکورہ صورتوں میں) سود صرف ادھار کی صورت میں ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2179]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ دینار کو دینار کے عوض اور درہم کو درہم کے عوض (برابر برابر) فروخت کرنا جائز ہے۔ راویِ حدیث نے ان سے عرض کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا آپ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے یا کتاب اللہ میں دیکھا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہتا کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔ البتہ مجھے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2179]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة