سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
قبولیت اسلام کے بعد کافر کی حالت کفر میں کی گئی نیکیوں کی اہمیت
ترقیم الباني: 249 ترقیم فقہی: -- 43
-" لا يا عائشة، إنه لم يقل يوما: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان دور جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا تھا اور مساکین کو کھانا کھلاتا تھا، آیا یہ نیکیاں اس کے لیے نفع مند ثابت ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، عائشہ! اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا تھا: اے میرے رب! روز قیامت میرے گناہوں کو بخش دینا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 43]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 249
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 136/1، وأبو عوانة: 1/ 100، و أحمد فى ”المسند“:، وابنه عبدالله فى ”زوائده“: 93/6، وأبو بكر العدل فى ”اثنا عشر مجلسا“ ق: 1/6، والواحدى فى ”الوسيط“: 1/167/3»
ترقیم الباني: 247 ترقیم فقہی: -- 44
-" إذا أسلم العبد، فحسن إسلامه، كتب الله له كل حسنة كان أزلفها، ومحيت عنه كل سيئة كان أزلفها، ثم كان بعد ذلك القصاص، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عز وجل عنها".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اسلام قبول کرتا ہے اور اس کے اسلام میں حسن آ جاتا ہے، تو اس نے جو نیکی کی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے لکھ کر (محفوظ کر لیتا) ہے اور اس نے جس برائی کا ارتکاب کیا ہوتا ہے اسے مٹا دیا جاتا ہے۔ پھر (اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے) مزید بدلہ یوں ہوتا ہے کہ ایک نیکی دس سے سات گنا تک کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور رہا مسئلہ برائی کا، تو وہ ایک ہی رہتی ہے، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ وہ بھی معاف کر دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 44]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 247
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي: 267/ 2 - 268»
ترقیم الباني: 2927 ترقیم فقہی: -- 45
-" لا، إنه كان يعطي للدنيا وذكرها وحمدها، ولم يقل يوما قط: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا: ہشام بن مغیرہ صلہ رحمی کرتا تھا، مہمانوں کی میزبانی کرتا تھا، غلاموں کو آزاد کرتا تھا، کھانا کھلاتا تھا اور اگر اسلام کا دور پاتا تو مسلمان بھی ہو جاتا، آیا یہ اعمال اس کے لیے نفع مند ثابت ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ تو دنیاوی غرض و غایت، اس کی صیت و شہرت اور اس کی خوشامد و چاپلوسی کے لیے دیتا تھا، اس نے ایک دن بھی نہیں کہا: اے میرے رب! روز قیامت میرے گناہوں کو معاف فرما دینا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 45]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2927
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو يعلي فى ”مسنده“: 6965، و الطبراني فى ”المعجم الكبير“: 606/279/23، 932/391»
ترقیم الباني: 248 ترقیم فقہی: -- 46
-" أسلمت على ما أسلفت من خير".
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جو نیکیاں کر چکے ہو، ان سمیت اسلام لائے ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 46]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 248
تخریج الحدیث: «أخرجه الشيخان وغيرهما»