سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
غیر اللہ کی قسم منع ہے
ترقیم الباني: 2042 ترقیم فقہی: -- 53
-" كل يمين يحلف بها دون الله شرك".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھانا شرک ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 53]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2042
ترقیم الباني: 136 ترقیم فقہی: -- 54
-" قولوا: ما شاء الله ثم شئت، وقولوا: ورب الكعبة".
جہینہ قبیلے کی خاتون سیدہ قتیلہ بنت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: تم لوگ شرک کرتے ہو کیونکہ تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور تم چاہو اور تم کعبہ کی قسم اٹھاتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن کر فرمایا: ”تم کہا کرو: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو اور قسم اٹھاتے وقت کہا کرو: رب کعبہ کی قسم۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 54]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 136
ترقیم الباني: 1119 ترقیم فقہی: -- 55
-" احلفوا بالله وبروا واصدقوا، فإن الله يكره أن يحلف إلا به".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم اٹھایا کرو، اسے پورا کیا کرو اور سچ بولا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ غیر کی قسم اٹھانے کو ناپسند کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 55]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1119
ترقیم الباني: 1166 ترقیم فقہی: -- 56
-" من حلف فليحلف برب الكعبة".
سیدہ قتیلہ بنت صفی جہنیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! تم بہترین لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم شرک نہ کرتے ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) وہ کیسے؟“ اس نے کہا: جب تم قسم اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اب جو آدمی بھی قسم اٹھائے وہ کعبہ کے رب کی قسم اٹھائے (نہ کہ کعبہ کی)۔“ اس نے پھر کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! تم بڑے اچھے لوگ ہو، لیکن کہ کاش کہ تم اللہ کے لیے اس کا ہمسر نہ ٹھہراتے ہوتے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! وہ کیسے؟ اس نے کہا: تم کہتے ہو کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اگر کوئی آدمی ”ماشاء اللہ“ کہے تو وہ «ثُم شئت» “ کہے (یعنی: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو)۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 56]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1166