🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

شیطان کے ہتھکنڈے شیطان کی نافرمانی پر جنت کی بشارت
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2979 ترقیم فقہی: -- 160
-" إن الشيطان قعد لابن آدم بأطرقه، فقعد له بطريق الإسلام، فقال: تسلم وتذر دينك ودين آبائك وآباء أبيك؟! فعصاه فأسلم، ثم قعد له بطريق الهجرة، فقال: تهاجر وتدع أرضك وسماءك، وإنما مثل المهاجر كمثل الفرس في الطول؟! فعصاه فهاجر، ثم قعد له بطريق الجهاد، فقال: تجاهد فهو جهد النفس والمال، فتقاتل فتقتل، فتنكح المرأة، ويقسم المال؟! فعصاه فجاهد. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فمن فعل ذلك كان حقا على الله عز وجل أن يدخله الجنة. ومن قتل كان حقا على الله أن يدخله الجنة. وإن غرق كان حقا على الله أن يدخله الجنة، أو وقصته دابته كان حقا على الله أن يدخله الجنة".
سیدنا سبرہ بن ابوفاکہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: آدم (علیہ السلام) کے بیٹے (کو گمراہ کرنے کے لئے) شیطان اس کے مختلف راستوں میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔ اسلام کے راستے میں بیٹھ کر (مسلمان ہونے والے) کو کہتا ہے: کیا تو اسلام قبول کرتا ہے اور اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے دین کو ترک کرتا ہے؟ لیکن ابن آدم اس کی نافرمانی کرتا ہے اور اسلام قبول کر لیتا ہے۔ پھر وہ ہجرت کے راستے پر بیٹھ جاتا ہے اور اسے کہتا ہے: کیا تو اب ہجرت کرتا ہے اور اپنے زمین و آسمان (یعنی علاقہ و وراثت) کو چھوڑنے لگا ہے، مہاجر کی مثال اس گھوڑے کی طرح ہے جو اس رسی میں ہو؟ لیکن وہ اس کی نافرمانی کرتے ہوئے ہجرت کر جاتا ہے۔ پھر وہ جہاد کے راستے پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: کیا تو جہاد کرنے کے لئے جا رہا ہے (دیکھ لے) یہ تو محنت و مشقت والا کام ہے، اس میں مال و دولت کھپ جاتا ہے، جب تو لڑے گا تجھے قتل کر دیا جائے گا، کوئی دوسرا تیری عورت سے نکاح کر لے گا اور تیرا مال (ورثا میں) تقسیم کر دیا جائے گا؟ لیکن وہ اس کی رائے کو ٹھکرا دیتا ہے اور جہاد کرتا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے (شیطان کے ساتھ) ایسے کیا، تو اللہ تعالی پر حق ہے وہ اسے جنت میں داخل کرے اور جو شہید ہو تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے، اگر وہ غرق ہو گیا تو اللہ تعالی پر لازم ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور اگر اس کی سواری نے اسے اس طرح گرایا کہ اس ک «ی گر» دن ٹوٹ گئی (اور وہ فوت ہو گیا) تو اللہ تعالی پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل میں داخل کرے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الايمان والتوحيد والدين والقدر/حدیث: 160]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2979

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں