🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

بنو اسرائیل سے ان کی احادیث بیان کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 422 ترقیم فقہی: -- 353
-" لا تصدقوا أهل الكتاب ولا تكذبوهم وقولوا: * (آمنا بالله وما أنزل إلينا وما أنزل إليكم) *".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب عبرانی زبان میں تورات پڑھتے تھے اور اہل اسلام کے لیے اس کی تفسیر عربی زبان میں پیش کرتے تھے۔ (یہ صورتحال دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ تکذیب، بلکہ یہ کہہ دیا کرو: ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور اس (شریعت) پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی تھی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 353]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 422

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2800 ترقیم فقہی: -- 354
-" ما حدثكم أهل الكتاب فلا تصدقوهم ولا تكذبوهم، وقولوا: آمنا بالله وكتبه ورسله، فإن كان حقا لم تكذبوهم وإن كان باطلا لم تصدقوهم".
ابن ابی نملہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک یہودی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! کیا اس میت سے کلام کی جاتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔“ اس یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اس سے کلام کی جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل کتاب تم کو کوئی بات بیان کریں تو ان کی تصدیق کیا کرو نہ تکذیب، بلکہ کہا کرو: ہم اللہ تعالیٰ، اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائے ہیں، اگر ان کی بات سچ ہوئی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی اور اگر وہ بات باطل ہوئی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 354]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2800

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 2926 ترقیم فقہی: -- 355
-" حدثوا عن بني إسرائيل ولا حرج، فإنه كانت فيهم الأعاجيب". ثم أنشأ يحدث قال:" خرجت طائفة من بني إسرائيل حتى أتوا مقبرة لهم من مقابرهم، فقالوا: لو صلينا ركعتين، ودعونا الله عز وجل أن يخرج لنا رجلا ممن قد مات نسأله عن الموت، قال: ففعلوا. فبينما هم كذلك إذ أطلع رجل رأسه من قبر من تلك المقابر، خلاسي، بين عينيه أثر السجود، فقال: يا هؤلاء ما أردتم إلي؟ فقد مت منذ مائة سنة، فما سكنت عني حرارة الموت حتى كان الآن فادعوا الله عز وجل لي يعيدني كما كنت".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنو اسرائیل سے (ان کی روایت) بیان کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ ان میں کچھ انوکھے امور بھی پائے جاتے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: ”بنو اسرائیل کا ایک گروہ نکلا، وہ اپنے ایک قبرستان کے پاس سے گزرا، وہ کہنے لگے: اگر ہم دو رکعت نماز پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لیے کسی مردہ کو (زندہ کر کے اسے اس کی قبر) سے نکالے، تاکہ ہم اس سے موت کے بارے میں دریافت کر سکیں۔ پس انہوں نے ایسے ہی کیا، وہ اس طرح کر رہے تھے کہ ایک گندمی رنگ کے آدمی نے قبر سے اپنا سر نکالا، اس کی پیشانی پر سجدوں کا نشان تھا، اس نے کہا: اوئے! تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں آج سے سو سال پہلے مرا تھا، لیکن ابھی تک موت کی حرارت ختم نہیں ہوئی، اب اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ مجھے اسی حالت میں لوٹا دے، جس میں میں تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/العلم والسنة والحديث النبوي/حدیث: 355]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2926

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں