🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

روزے دار کا بیوی کا بوسہ لینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 329 ترقیم فقہی: -- 874
-" أنا أتقاكم لله، وأعلمكم بحدود الله".
عطا بن یسار، ایک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا انس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا، پھر اس نے اپنی بیوی سے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کرے؟ اس نے آپ سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کوئی مضائقہ نہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ایسا کرتے ہیں۔“ اس نے اپنے خاوند پر صورتحال کو واضح کیا، لیکن اس نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بعض مخصوص چیزوں کی رخصت دی جاتی ہے (جو عام مومنوں کے لیے نہیں ہوتی) لہٰذا تو دوبارہ جا اور آپ کے سامنے میرا یہ اشکال پیش کر۔ وہ دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور کہا: میرا خاوند کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو بطور اختصاص بعض چیزوں کی اجازت دے دی جاتی ہے (لیکن ہم)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور اس کی حدود کو سب سے زیادہ جاننے والا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 874]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 329

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 328 ترقیم فقہی: -- 875
-" ما بال رجال بلغهم عني أمر ترخصت فيه، فكرهوه وتنزهوا عنه؟! فوالله لأنا أعلمهم بالله وأشدهم له خشية".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اس میں رخصت دے دی۔ جب یہ بات صحابہ کرام تک پہنچی تو انہوں نے اس رخصت کو ناپسند کیا اور اس سے اجتناب کرنے لگے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے رویے)کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، میری طرف سے ایک رخصت والا معاملہ ان تک پہنچا، لیکن انہوں نے ناپسند کیا اور اس سے گریز کرنے لگے؟ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہوں اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا بھی میں ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 875]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 328

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 220 ترقیم فقہی: -- 876
-" كان يقبل وهو صائم، ويباشر وهو صائم، وكان أملككم لإربه".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیویوں کا) بوسہ بھی لے لیتے تھے اور ان کے ساتھ لیٹ بھی جایا کرتے تھے، لیکن وہ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 876]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 220

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 219 ترقیم فقہی: -- 877
-" كان يقبلني وهو صائم وأنا صائمة. يعني عائشة".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لے لیا کرتے تھے، حالانکہ آپ بھی روزے دار ہوتے اور میں بھی روزے دار ہوتی۔ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 877]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 219

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1606 ترقیم فقہی: -- 878
-" إن الشيخ يملك نفسه".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، ایک نوجوان آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر ایک بوڑھا آدمی آیا اور اس نے کہا: کیا میں روزے کی حالت میں بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ہم (اس فرق کی وجہ سے) ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک بوڑھا آدمی اپنے آپ پر قابو رکھ سکتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الصيام والقيام/حدیث: 878]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1606

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں