سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
خرید و فروخت کی ممنوعہ صورتیں ایک سودے میں بیع بھی اور قرض بھی، ایک سودے میں دو شرطیں ایسی چیز کا سودا کرنا جو بائع کے پاس نہ ہو
ترقیم الباني: 1212 ترقیم فقہی: -- 1066
-" أتدري إلى أين أبعثك؟ إلى أهل الله وهم أهل مكة، فانههم عن أربع: عن بيع وسلف، وعن شرطين في بيع، وربح ما لم يضمن، وبيع ما ليس عندك".
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتاب بن اسید کو مکہ کی طرف (بطور حاکم) روانہ کیا اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میں تجھے کہاں بھیج رہا ہوں؟ اہل اللہ کی طرف، جو کہ اہل مکہ ہیں۔ تم نے ان کو ان چار چیزوں سے منع کرنا ہے: (۱) اس سے کہ ایک ہی معاملہ میں بیع بھی ہو اور قرض بھی، (۲) ایک سودے میں دو شرطوں سے، (۳) ایسی چیز کے نفع سے جس کے نقصان کا آدمی ضامن نہ ہو اور (۴) ایسی چیز کی بیع جو تیرے پاس نہ ہو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1066]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1212
ترقیم الباني: 2326 ترقیم فقہی: -- 1067
-" من باع بيعتين في بيعة، فله أوكسهما أو الربا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک بیع میں دو سودے کیے، یا تو وہ کم قیمت لے گا یا پھر سود لے گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/البيوع والكسب والزهد/حدیث: 1067]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2326