سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
سینگی لگوانا
ترقیم الباني: 2747 ترقیم فقہی: -- 1604
-" إذا هاج بأحدكم الدم فليحتجم، فإن الدم إذا تبيغ بصاحبه يقتله".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خون بھڑکنے لگ جائے (یعنی بلڈ پریشر بلند ہو جائے) تو وہ سینگی لگوائے، کیونکہ خون کے جوش مارنے سے آدمی کی موت واقع ہو سکتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1604]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2747
ترقیم الباني: 760 ترقیم فقہی: -- 1605
-" إن كان في شيء مما تداوون به خير ففي الحجامة".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن چیزوں کو تم بطور علاج استعمال کرتے ہو، اگر ان میں کوئی بہتری ہے تو وہ سینگی لگوانے میں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1605]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 760
ترقیم الباني: 245 ترقیم فقہی: -- 1606
-" إن كان في شيء من أدويتكم خير ففي شرطة محجم، أو شربة من عسل أو لذعة بنار، وما أحب أن أكتوي".
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مقنع کی بیمار پرسی کے لیے آئے اور کہا: میں یہیں بیٹھا رہوں گا جب تک تو پچھنے نہیں لگوائے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اگر تمہاری دواؤں میں خیر ہے تو وہ سینگی لگوانے میں یا شہد پینے میں یا داغنے میں ہے، لیکن میں داغنے کو ناپسند کرتا ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1606]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 245
ترقیم الباني: 864 ترقیم فقہی: -- 1607
-" إن فيه (يعني الحجامة) شفاء".
بکیر کہتے ہیں کہ عاصم بن قتادہ نے انہیں بیان کیا کہ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ مقنع کی تیمارداری کرنے کے لیے گئے اور کہا: میں یہیں بیٹھا رہوں گا جب تک تو سینگی نہیں لگوائے گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بےشک اس میں شفا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1607]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 864
ترقیم الباني: 4035 ترقیم فقہی: -- 1608
- (إن كان في شيءٍ شفاءٌ؛ ففي شرطةِ مِحْجَمٍ، أو شَرْبَةِ عَسَلٍ، أو كَيّةٍ تصيبُ ألماً، وأنا أكرهُ الكيَّ ولا أحبُّه)
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں شفا ہے تو وہ سینگی لگوانے میں، شہد پینے میں یا داغنے میں ہے، لیکن میں داغنے کو مکروہ سمجھتا ہوں اور اسے پسند نہیں کرتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1608]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 4035
ترقیم الباني: 766 ترقیم فقہی: -- 1609
-" الحجامة على الريق أمثل وفيه شفاء وبركة وتزيد في العقل وفي الحفظ، فاحتجموا على بركة الله يوم الخميس، واجتنبوا الحجامة يوم الأربعاء والجمعة والسبت ويوم الأحد تحريا، واحتجموا يوم الاثنين والثلاثاء، فإنه اليوم الذي عافى الله فيه أيوب من البلاء وضربه بالبلاء يوم الأربعاء، فإنه لا يبدو جذام ولا برص إلا يوم الأربعاء أو ليلة الأربعاء".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: نافع! میرے خون میں حدت پیدا ہو گئی ہے، کوئی پچھنے لگانے والا آدمی تلاش کر کے لاؤ، کوشش کرنا کہ وہ نرمی والا ہو اور بوڑھا ہو نہ کہ بچہ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”نہار منہ سینگی لگوانا افضل ہے، اس میں شفا اور برکت ہوتی ہے اور عقل اور ضبط میں اضافہ ہوتا ہے۔ اللہ کا نام لے کر جمعرات والے دن سینگی لگواؤ۔ بدھ، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سینگی لگوانے سے گریز کرو، سوموار اور منگل کو پچھنے لگوایا کرو، کیونکہ اللہ تعالی نے اس دن میں ایوب علیہ السلام کو بیماری سے شفا دی تھی اور بدھ والے دن ان میں آزمائش میں مبتلا کیا تھا۔ کوڑھ پن اور پھلبہری بھی بدھ والے دن یا رات کو ہی ظاہر ہوتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1609]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 766
ترقیم الباني: 622 ترقیم فقہی: -- 1609M
-" من احتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين كان شفاء من كل داء".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے (چاند کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو سینگی لگوائی تو یہ ہر بیماری سے شفا ہو گی۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1609M]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 622
ترقیم الباني: 908 ترقیم فقہی: -- 1610
-" كان يحتجم على الأخدعين والكاهل وكان يحتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانب دو پوشیدہ رگوں اور پیٹھ کے بالائی حصے پر سینگی لگواتے تھے اور (چاند کی) سترھویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنے لگواتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1610]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 908
ترقیم الباني: 753 ترقیم فقہی: -- 1611
-" كان يحتجم في رأسه، ويسميه أم مغيث".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر میں سینگی لگواتے تھے اور اسے ام مغیث کہتے تھے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1611]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 753
ترقیم الباني: 1053 ترقیم فقہی: -- 1612
-" خير ما تداويتم به الحجامة".
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین چیز جس سے تم علاج کرتے ہو، وہ پچھنے لگوانا ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الطب والعيادة/حدیث: 1612]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1053