سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
بیماری اور آزمائش گناہوں کا کفارہ ہیں
ترقیم الباني: 714 ترقیم فقہی: -- 1666
-" أبشري يا أم العلاء، فإن مرض المسلم يذهب الله به خطاياه كما تذهب النار خبث الذهب والفضة".
سیدہ ام العلا رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں بیمار تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: ”ام العلا! خوش ہو جا، اللہ تعالیٰ مسلمان کے مرض کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کی کھوٹ کو ختم کر دیتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1666]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 714
ترقیم الباني: 2274 ترقیم فقہی: -- 1667
-" ما من شيء يصيب المؤمن في جسده يؤذيه، إلا كفر الله عنه من سيئاته".
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جب مومن کو کوئی تکلیف دہ چیز لاحق ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1667]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2274
ترقیم الباني: 2410 ترقیم فقہی: -- 1668
-" وصب المؤمن كفارة لخطاياه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”مومن کی تکلیف اس کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1668]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2410
ترقیم الباني: 715 ترقیم فقہی: -- 1669
-" لا تسبي الحمى، فإنها تذهب خطايا بني آدم كما يذهب الكير خبث الحديد".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سائب یا ام مسیب کے پاس آئے اور پوچھا: ”ام سائب! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ کانپ رہی ہو۔“ انہوں نے جواب دیا: بخار ہے، اللہ اس کو بے برکتا کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بخار کو برا بھلا مت کہہ، یہ تو بنی آدم کے گناہوں کو اس طرح صاف کر دیتا ہے جیسے دھونکنی لوہے کی کھوٹ کو دور کر دیتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1669]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 715
ترقیم الباني: 2277 ترقیم فقہی: -- 1670
-" ما من عبد يصرع صرعة من مرض، إلا بعثه الله منها طاهرا".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ہے کوئی (مومن) بندہ جسے بیماریوں کی وجہ سے پچھاڑ دیا گیا ہو مگر جب اللہ تعالیٰ اس کو (شفا عطا کر کے) اٹھاتا ہے تو وہ پاک ہوتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1670]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2277
ترقیم الباني: 2280 ترقیم فقہی: -- 1671
-" ما يزال البلاء بالمؤمن والمؤمنة في نفسه وولده وماله حتى يلقى الله وما عليه خطيئة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن اپنی جان، اولاد اور مال کے معاملے میں ہمیشہ آزمائش میں رہتا ہے، یہاں تک جب اللہ تعالیٰ سے اس کی ملاقات ہوتی ہے تو (ان آزمائشوں کی وجہ سے) اس کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1671]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2280
ترقیم الباني: 2500 ترقیم فقہی: -- 1672
-" ما ابتلى الله عبدا ببلاء وهو على طريقة يكرهها، إلا جعل الله ذلك البلاء له كفارة وطهورا، ما لم ينزل ما أصابه من البلاء بغير الله، أو يدعو غير الله في كشفه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ام عبداللہ بنت ابو ذباب کو تکلیف تھی، میں تیمارداری کرنے کے لیے ان کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا: اے ابو ہریرہ! ایک دفعہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، جو کہ بیمار تھیں، کی تیمارداری کرنے کے لیے ان کے پاس گئی۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر نکلا ہوا پھوڑا دیکھا تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جب اللہ تعالیٰ بندے کو آزماتا ہے اور وہ اپنی حالت و کیفیت کی بنا پر اسے ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ اور اسے پاک کرنے کا سبب بنا دیتا ہے، جب تک وہ لاحق ہونے والی بیماری (سے شفا حاصل کرنے کے لیے) اسے غیر اللہ کے در پر پیش نہیں کرتا یا اسے دور کرنے کے لیے غیر اللہ کو نہیں پکارتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1672]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2500
ترقیم الباني: 1103 ترقیم فقہی: -- 1673
-" أوما علمت أن المؤمن يشدد عليه ليكون كفارة لخطاياه".
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی، غالبا وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے، اس بیماری سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید گھٹن اور تکلیف ہوئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ گھبرا رہے ہیں اور بے تاب ہو رہے ہیں، اگر میں ایسا کرتی تو آپ مجھ پر تعجب کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نہیں جانتی کہ مومن پر تکلیف اس لیے سخت ہوتی ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1673]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1103
ترقیم الباني: 1611 ترقیم فقہی: -- 1674
-" إن العبد إذا مرض أوحى الله إلى ملائكته: يا ملائكتي أنا قيدت عبدي بقيد من قيودي، فإن أقبضه أغفر له وإن أعافه فحينئذ يقعد ولا ذنب له".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ بیمار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اے میرے فرشتو! میں نے اپنے بندے کو اپنی کسی (آزمائش کی) بندھن میں مقید کر لیا ہے، اگر میں نے اس کو فوت کر دیا تو بخش دوں گا اور اگر (اس بیماری سے) عافیت دے دی تو یہ (شفایاب ہو کر) بیٹھے گا اور اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1674]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1611
ترقیم الباني: 1714 ترقیم فقہی: -- 1675
-" إنما مثل العبد المؤمن حين يصيبه الوعك أو الحمى كمثل حديدة تدخل النار، فيذهب خبثها ويبقى طيبها".
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بندے کی مثال، جب وہ بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس لوہے کی طرح ہے جسے آگ میں پھینک دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا کھوٹ ختم ہو جاتا ہے اور کارآمد حصہ باقی رہ جاتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المرض والجنائز والقبور/حدیث: 1675]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1714