سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
نبیذ کتنی دیر تک استعمال کی جا سکتی ہے؟
ترقیم الباني: 1573 ترقیم فقہی: -- 1803
-" انبذوه (يعني الزبيب) على غذائكم واشربوه على عشائكم وانبذوه على عشائكم واشربوه على غدائكم وانبذوه في الشنان، ولا تنبذوه في القلل، فإنه إذا تأخر عن عصره صار خلا".
سیدنا فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کس کی طرف آئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کی طرف۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے ہاں انگور ہوتے ہیں، ہم ان کا کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منقیٰ بنا لیا کرو۔“ ہم نے کہا: ہم منقیٰ کو کیا کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بوقت صبح اس کی نبیذ بنا لیا کرو اور بوقت شام پی لیا کرو اور اسی طرح شام کو بنا کر صبح کو پی لیا کرو اور مشکیزوں میں نبیذ بنانی ہے، نہ کہ مٹکوں میں، کیونکہ تاخیر ہونے کی صورت میں وہ مٹکوں میں سرکہ بن جاتی ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاضاحي والزبائح والاطعمة والاشربة والعقيقة والرفق بالحيوان/حدیث: 1803]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1573