سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حسن اخلاق اور اس کی فضیلت
ترقیم الباني: 794 ترقیم فقہی: -- 2395
-" إن الرجل ليدرك بحسن خلقه درجة الساهر بالليل الظامئ بالهواجر".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ آدمی اخلاق حسنہ کی وجہ سے رات کو بیدار رہ کر (قیام کرنے والے) اور دوپہر کی گرمیوں میں پیاس برداشت کرنے والے (روزہ دار) کا مرتبہ حاصل کر لیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2395]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 794
ترقیم الباني: 522 ترقیم فقہی: -- 2396
-" إن المسلم المسدد ليدرك درجة الصوام القوام بآيات الله عز وجل لكرم ضريبته وحسن خلقه".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”راہ راست پر گامزن مسلمان اپنے عمدہ مزاج اور حسن اخلاق کی وجہ سے بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ لمبا قیام کرنے والے کے مرتبے کو پا لیتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2396]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 522
ترقیم الباني: 792 ترقیم فقہی: -- 2397
-" إن من أحبكم إلي أحسنكم خلقا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب وہ آدمی ہے، جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے بہت عمدہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2397]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 792
ترقیم الباني: 791 ترقیم فقہی: -- 2398
-" إن من أحبكم إلي وأقربكم مني مجلسا يوم القيامة أحاسنكم أخلاقا وإن أبغضكم إلي وأبعدكم مني مجلسا يوم القيامة الثرثارون والمتشدقون والمتفيهقون، قالوا: قد علمنا" الثرثارون والمتشدقون" فما" المتفيهقون؟" قال: المتكبرون".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تم میں سے سب سے زیادہ محبوب اور روز قیامت مجلس کے لحاظ سے میرے سب سے زیادہ قریبی وہ لوگ ہوں گے جو تم میں سے اخلاق کے لحاظ سے بہت عمدہ ہوں اور تم میں سے میرے ہاں سب سے زیادہ نفرت والے اور روز قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو فضول بولنے والے، گفتگو کے لیے باچھوں کو موڑنے والے اور تکبر کرنے والے ہوں۔“ صحابہ نے کہا: ہم «ثرثارون» اور «متشدقون» کا معنی تو سمجھتے ہیں، «متفيقهون» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکبر کرنے والے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2398]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 791
ترقیم الباني: 45 ترقیم فقہی: -- 2399
-" إنما بعثت لأتمم مكارم (وفي رواية صالح) الأخلاق".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو صرف اس (مقصد) کے لیے مبعوث کیا گیا کہ اخلاقی اقدار کی تکمیل کر سکوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2399]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 45
ترقیم الباني: 3255 ترقیم فقہی: -- 2400
- (إنَّما يهدِي إلى أحسنِ الأخلاق: اللهُ، وإنّما يصرفُ مِن أسوَئها هُو) .
طاؤس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہی اچھے اخلاق کی طرف رہنمائی فرماتا ہے اور وہی ہے جو برے اخلاق کو دور کرتا ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2400]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3255
ترقیم الباني: 1939 ترقیم فقہی: -- 2401
-" عليك بحسن الكلام، وبذل الطعام".
سیدنا ہانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل جنت کو واجب کر دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تو عمدہ کلام کرنے اور کھانا کھلانے کو لازم پکڑ۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2401]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1939
ترقیم الباني: 519 ترقیم فقہی: -- 2402
-" إنه من أعطي حظه من الرفق، فقد أعطي حظه من خير الدنيا والآخرة وصلة الرحم وحسن الخلق وحسن الجوار يعمران الديار ويزيدان في الأعمار".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا: ”جس کو نرمی عطا کی گئی، اس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسن اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک (جیسے امور خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2402]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 519
ترقیم الباني: 977 ترقیم فقہی: -- 2403
-" أكثر ما يدخل الناس الجنة تقوى الله وحسن الخلق وأكثر ما يدخل الناس النار الفم والفرج".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سی چیز بکثرت لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا ڈر اور حسن خلق اور جو چیز سب سے زیادہ لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی، وہ منہ اور شرمگاہ ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2403]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 977
ترقیم الباني: 286 ترقیم فقہی: -- 2404
-" خياركم أحاسنكم أخلاقا".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اخلاق کے لحاظ سے تم میں سب سے زیادہ اچھے ہوں۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2404]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 286