سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
غلاموں اور خادموں کے حقوق
ترقیم الباني: 1285 ترقیم فقہی: -- 2421
-" إذا أتى أحدكم خادمه بطعام قد ولى حره ومشقته ومؤنته فليجلسه معه: فإن أبى فليناوله أكلة في يده".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے لیے اس کا خادم کھانا لائے، چونکہ وہی کھانے کی حرارت اور محنت و مشقت برداشت کرتا ہے، اس لیے (مالک کو) چاہئے کہ وہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے، اگر وہ ایسا کرنے سے انکار کرے تو اسے اس کے ہاتھ میں کھانا تھما دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2421]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1285
ترقیم الباني: 1043 ترقیم فقہی: -- 2422
-" إذا جاء خادم أحدكم بطعامه قد كفاه حره وعمله، فإن لم يقعده معه ليأكل، فليناوله أكلة من طعامه".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا خادم اس کا کھانا لائے، تو چونکہ اس نے ( کھانا پکانے کی) حرارت اور (مزید) محنت و مشقت برداشت کی ہوتی ہے، (اس لیے مالک کو چاہئیے کہ اسے اپنے ساتھ بٹھا لے تاکہ وہ بھی کھانا تناول کر سکے) اگر وہ اسے کھانے کے لیے اپنے ساتھ نہ بٹھانا چاہے تو اسے کچھ کھانا تھما دیا کرے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2422]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1043
ترقیم الباني: 740 ترقیم فقہی: -- 2423
-" أرقاءكم، أرقاءكم، أطعموهم مما تأكلون واكسوهم مما تلبسون، فإن جاءوا بذنب لا تريدون أن تغفروه فبيعوا عباد الله ولا تعذبوهم".
سیدنا یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: ”اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا۔ جیسا خود کھاتے ہو ویسا ان کو بھی کھلاؤ۔ جیسا خود پہنتے ہو ویسا ان کو بھی پہناؤ۔ اگر وہ کوئی ایسا گناہ کر بیٹھیں جو تم معاف نہیں کرنا چاہتے تو اللہ کے ان بندوں کو بیچ دو اور ان کو عذاب نہ دو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2423]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 740
ترقیم الباني: 488 ترقیم فقہی: -- 2424
-" اعفوا عنه (يعني الخادم) في كل يوم سبعين مرة".
عباس بن جلید حجری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کتنی دفعہ خادم سے درگزر کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے پھر یہی جملہ دہرایا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خاموش رہے۔ جب اس نے تیسری مرتبہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزانہ ستر بار درگزر کیا کرو۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2424]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 488