سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
پڑوسیوں کے حقوق
ترقیم الباني: 2181 ترقیم فقہی: -- 2540
-" ليس بمؤمن من لا يأمن جاره غوائله".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص مومن نہیں، جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہیں ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2540]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2181
ترقیم الباني: 2841 ترقیم فقہی: -- 2541
-" لا يستقيم إيمان عبد حتى يستقيم قلبه ولا يستقيم قلبه حتى يستقيم لسانه ولا يدخل رجل الجنة لا يأمن جاره بوائقه".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی آدمی کا ایمان اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا دل درست نہیں ہوتا اور کسی کا دل اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی زبان راہ راست پر نہیں آ جاتی اور ایسا شخص تو جنت میں داخل نہیں ہو گا کہ جس کے شرور سے اس کا ہمسایہ امن میں نہیں ہوتا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2541]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2841
ترقیم الباني: 2646 ترقیم فقہی: -- 2542
-" كم من جار متعلق بجاره يقول: يا رب! سل هذا لم أغلق عني بابه، ومنعني فضله؟".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی پڑوسی (ایسے ہوں گے جو) اپنے پڑوسی (کے حقوق کے سلسلے میں) لٹکے ہوئے ہوں گے۔ پڑوسی کہے گا: اے میرے رب! اس سے سوال کر کہ اس نے اپنا دروازہ مجھ سے کیوں بند کر دیا تھا اور بچا ہوا مال مجھ سے کیوں روک لیا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2542]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2646
ترقیم الباني: 2947 ترقیم فقہی: -- 2543
-" من بنى بناء فليدعمه حائط جاره. وفي لفظ: من سأله جاره أن يدعم على حائطه فليدعه".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کوئی عمارت تعمیر کرے تو وہ اپنے پڑوسی (کے گھر) کی دیوار پر تعمیر کر لے۔“ اور ایک روایت کے لفظ یہ ہیں: ”جو آدمی اپنے پڑوسی سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ اس کی دیوار پر (اپنی عمارت کو) سہارا دینا چاہتا ہے تو وہ اس کو (یہ کام) کرنے دے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاخلاق والبروالصلة/حدیث: 2543]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2947