Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

انصار کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1234 ترقیم فقہی: -- 3323
-" لا يبغض الأنصار رجل يؤمن بالله واليوم الآخر".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا۔ یہ حدیث سیدنا ابوسعید سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3323]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1234

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3437 ترقیم فقہی: -- 3324
- (يطلُعُ عليكم أهلُ اليمن كأنّهم السّحاب، هم خيارُ من في الأرض. فقال رجلٌ من الأنصار: ولا نحنُ يا رسولَ الله؟! فسكت، قال: ولا نحن يا رسول الله؟! فسكت، قال: ولا نحن يا رسول الله؟! فقال في الثالثة كلمةً ضعيفةً: إلا أنتُم).
محمد بن جبیر بن مطعم اپنے باپ سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شاہراہ مکہ پر بیٹھ ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یمن کے لوگ تمہارے پاس آئیں گے، گویا کہ وہ بادل ہیں، وہ (‏‏‏‏ اہل) زمین میں سے بہترین لوگ ہیں۔ ایک انصاری آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ ہم سے بھی (‏‏‏‏ بہتر) ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم (‏‏‏‏سب سے بہتر) نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم (‏‏‏‏سب سے بہتر) نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ پست آواز میں فرمایا: سوائے تمہارے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3324]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3437

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 991 ترقیم فقہی: -- 3325
-" من أحب الأنصار أحبه الله ومن أبغض الأنصار أبغضه الله".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انصاریوں سے محبت کی، اللہ اس سے محبت کرے گا اور جس نے انصاریوں سے بغض رکھا، اللہ اس سے بغض رکھے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3325]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 991

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1156 ترقیم فقہی: -- 3326
-" قريش ولاة هذا الأمر، فبر الناس تبع لبرهم وفاجرهم تبع لفاجرهم".
سیدنا حمید بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ کے کسی گوشے میں (‏‏‏‏ایک آبادی میں) تھے۔ جب وہ آئے تو آپ کے چہرے سے کپڑا اٹھایا، آپ کا بوسہ لیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کتنی پاکیزہ شخصیت ہیں، زندہ ہوں یا فوت شدہ۔ رب کعبہ کی قسم! محمد (‏‏‏‏ صلی اللہ علیہ وسلم ) فوت ہو گئے ہیں . . . .، پھر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما انصاریوں کے پاس گئے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور ان کے بارے میں نازل ہونے والی تمام آیات اور احادیث رسول ذکر کر دیں، نیز کہا: (‏‏‏‏انصاریو!) تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں ان کے ساتھ چلوں گا۔ سعد! تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور تم وہاں بیٹھے تھے: قریش اس (‏‏‏‏خلافت کے) معاملے کے ذمہ دار و حقدار ہیں، نیکوکار لوگ نیک قریشیوں کے تابع فرمان ہوں گے اور برے لوگ برے قریشیوں کے ماتحت ہوں گے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سچ کہہ رہے ہو، ہم وزرا ہیں اور تم امرا ہو۔ یہ حدیث سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3326]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1156

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1672 ترقیم فقہی: -- 3327
-" إن الناس يهاجرون إليكم، ولا تهاجرون إليهم، والذي نفس محمد بيده لا يحب رجل الأنصار حتى يلقى الله تبارك وتعالى إلا لقي الله تبارك وتعالى وهو يحبه ولا يبغض رجل الأنصار حتى يلقى الله تبارك وتعالى إلا لقي الله تبارك وتعالى وهو يبغضه".
سیدنا حارث بن زیاد ساعدی انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں خندق والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، آپ لوگوں سے ہجرت پر بیعت لے رہے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی بھی بیعت لے لو۔ آپ نے پوچھا: ‏‏‏‏یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: یہ میرے چچا کے بیٹے حوط بن یزید یا یزید بن حوط ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏میں آپ سے بیعت نہیں لوں گا، کیونکہ لوگ آپ کی طرف ہجرت کرتے ہیں، نہ کہ تم ان کی طرف کرتے ہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے تک انصار سے محبت کرتا رہا تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے محبت کرنے والا ہو گا اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے تک انصار سے بغض کرتا رہا تو وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس سے بغض رکھنے والا ہو گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3327]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1672

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 461 ترقیم فقہی: -- 3328
-" جزى الله الأنصار عنا خيرا، ولا سيما عبد الله بن عمرو بن حرام وسعد بن عبادة".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے خزیزہ (‏‏‏‏ایک کھانا جو قیمے اور آٹے سے بنایا جاتا ہے) تیار کرنے کا حکم دیا، جب میں وہ کھانا تیار کر کے فارغ ہوا تو مجھے حکم دیا کہ یہ کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔ میں آپ کے پاس گیا، آپ گھر میں ہی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: جابر! تمہارے کے پاس کون سی چیز ہے؟ آیا گوشت ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ میں اپنے باپ کے پاس واپس آ گیا، انہوں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تیری ملاقات ہوئی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: تو نے ان کی کوئی بات سنی؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! تیرے پاس کیا ہے؟ آیا گوشت ہے؟ میرے باپ نے کہا: ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گوشت کھانے کے خواہشمند ہوں۔ چنانچہ انہوں نے پالتو بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ پس اسے ذبح کیا گیا، پھر اسے بھونا گیا۔ پھر میرے باپ نے مجھے حکم دیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، میں لے گیا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو پوچھا۔ جابر! تیرے پاس کیا ہے؟، میں نے بتایا (‏‏‏‏کہ گوشت ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصاریوں کو جزائے خیر دے، بالخصوص عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3328]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 461

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1768 ترقیم فقہی: -- 3329
-" الأنصار شعار والناس دثار ولو أن الناس استقبلوا واديا أو شعبا واستقبلت الأنصار واديا لسلكت وادي الأنصار ولولا الهجرة لكنت امرأ من الأنصار".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار تحتانی لباس (‏‏‏‏یعنی مخصوص) لوگ ہیں اور دوسرے لوگ فوقانی لباس (‏‏‏‏یعنی عام لوگ) ہیں۔ اگر عام لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی میں تو میں انصاریوں کی وادی میں چلوں گا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصاری ہوتا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3329]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1768

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3433 ترقیم فقہی: -- 3330
- (مَنْ أَخافَ هذا الحيُّ من الأنصارِ؛ فقدْ أخافَ ما بين هذين؛ يعني: جَنْبَيْه).
عبدالرحمٰن بن جابر بن عبداللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حرہ والے دن نکلے، جب ان کا پاؤں ایک پتھر سے ٹکرایا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈرانے والا ہلاک ہو جائے۔ میں نے کہا: کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوفزدہ کیا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے انصار کے اس قبیلے کو ڈرایا، اس نے میرے دل کو خوفزدہ کر دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3330]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3606 ترقیم فقہی: -- 3331
- (الأ نصار كَرِشي وعَيْبَتي، والناس سيكثرون، ويقلُّون فاقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار میرے مخلص ساتھی اور ہمراز ہیں، دوسرے لوگ گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔ انصاریوں کی اچھائیاں قبول کرو اور ان کی برائیاں نظر انداز کر دو۔ یہ حدیث سیدنا انس، سیدنا اسید بن حضیر، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3331]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3606

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1975 ترقیم فقہی: -- 3332
-" الأنصار لا يحبهم إلا مؤمن ولا يغضهم إلا منافق، فمن أحبهم أحبه الله ومن أبغضهم أبغضه الله".
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریوں سے محبت کرنے والا مومن اور ان سے بغض رکھنے والا منافق ہی ہو سکتا ہے۔ اللہ اس سے محبت کرے جو ان سے محبت کرتا ہے اور اس سے بغض رکھے جو ان سے بغض رکھتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3332]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1975

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں