🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

انصار کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 916 ترقیم فقہی: -- 3333
-" إن الأنصار قد قضوا الذي عليهم وبقي الذي عليكم، فأحسنوا إلى محسنهم وتجاوزوا عن مسيئهم".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سر باندھ کر باہر تشریف لائے، انصاریوں کے بچے اور خدّام آپ کو ملے، جو اس وقت انصاریوں کا ذخیرہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین دفعہ فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بیشک میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ پھر فرمایا: انصاریوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کر دیں، تمہاری ذمہ داریاں باقی ہیں، سو تم انصاریوں کی حسنات قبول کر لینا اور ان کی سیئات سے تجاوز کر جانا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3333]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 916

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3430 ترقیم فقہی: -- 3334
- (أمّا بعدُ؛ أيّها الناسُ! إنّ النّاس يكثرون وتقلُّ الأنصارُ؛ حتى يكونُوا كالملح في الطعامِ، فمن وَليَ منكُم أمراً [من أمّةِ محمّدِ - صلى الله عليه وسلم -، فاستطاعَ أن] يضرّ فيه أحداً أو ينفعَه؛ فليقبلْ من محسنِهم، ويتجاوزْ عن مُسيئهم) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یہ انصاری خواتین و حضرات مسجد میں جمع ہیں اور رو رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا: یہ لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ اس نے کہا: انہیں آپ کی موت کا خطرہ ہے۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل پڑے، ایک چادر آپ نے کندھوں پر ڈالی ہوئی تھی اور مٹیالے رنگ کی پگڑی باندھی ہوئی تھی، آپ ممبر پر تشریف فرما ہوئے، یہ آپ کی آخری مجلس تھی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اما بعد: لوگو! لوگوں کی تعداد میں اضافہ اور انصار کی تعداد میں کمی واقع ہو رہی ہے، حتیٰ کہ ان کی تعداد کھانے میں نمک کے برابر رہ جائے گی۔ (‏‏‏‏سنو!) تم میں سے جو آدمی، محمد کی امت کے امور کا والی بنے اور اسے یہ طاقت بھی ہو کہ وہ کسی کو نفع یا نقصان پہنچا سکے تو وہ انصاریوں کی نیکیوں کو قبول کرے اور برائیوں سے درگزر کرے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3334]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3430

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3560 ترقیم فقہی: -- 3335
- (ألا إنّ لكل شيء تركة وضيعة، وإن ترِكَتي وضيعتي الأنصار، فاحفظوني فيهم) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: آگاہ ہو جاؤ! ہر آدمی کی میراث اور جاگیر ہوتی ہے اور میری میراث اور جاگیر انصاری ہیں، ان کے بارے میں میرا خیال رکھنا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3335]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3560

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 917 ترقیم فقہی: -- 3336
-" ألا إن الناس دثاري والأنصار شعاري لو سلك الناس واديا وسلكت الأنصار شعبة لاتبعت شعبة الأنصار ولولا الهجرة لكنت رجلا من الأنصار، فمن ولى أمر الأنصار، فليحسن إلى محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم ومن أفزعهم، فقد أفزع هذا الذي بين هاتين. وأشار إلى نفسه صلى الله عليه وسلم".
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر انصاریوں کے حق میں یہ فرماتے ہوئے سنا: عام لوگ فوقانی لباس ہیں اور انصاری تحتانی لباس (‏‏‏‏یعنی مخصوص) لوگ) ہیں، اگر لوگ ایک وادی میں اور انصار کسی دوسری گھاٹی میں چل رہے ہوں تو میں انصاریوں کی گھاٹی میں چلوں گا، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصاریوں میں سے ہوتا، جو آدمی انصار کے معاملات کا والی بنے وہ ان کے نیک لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے اور غلطیاں کرنے والوں سے تجاوز کر جائے۔ جس نے ان کو خوفزدہ کیا اس نے ان دو پہلوؤں کے درمیان والی چیز کو خوفزدہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3336]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 917

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3459 ترقیم فقہی: -- 3337
ـ (أَلا أخبرُكم بخيْرِ دُورِ الأنصارِ ـ أو بخيْرِ الأنصار ِـ؟! قالوا: بلَى يا رسولَ الله! قال: بَنُو النّجارِ، ثمّ الذين يلونَهم؛ بَنُو عبدِ الأشهلِ، ثمّ الذين يلونَهم؛ بنُو الحارثِ بن الخزرجِ، ثمّ الذين يلونَهم؛ بنُو ساعدةَ، ثمّ قال بيدَيهِ، فقبضَ أصابِعه ثمّ بسطهُنَّ ـ كالرامي بيدهِ ـ، قال: وفي دُورِ الأنصارِ كلِّها خيرٌ) .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہارے لیے انصار کے بہترین گھروں یا بہترین انصاریوں کا تعین نہ کر دوں۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو نجار سب سے بہتر ہیں ان کے بعد بنو عبدالاشھل، ان کے بعد بنو حارث بن خزرج اور ان کے بعد بنو ساعدہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں بند کیں اور کھولیں، جیسے کوئی چیز پھینک رہے ہیں اور فرمایا: سب انصاریوں کے گھروں میں خیر ہے۔ یہ حدیث سیدنا انس، سیدنا ابو ایسد ساعدی، سیدنا ابو حمید ساعدی اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3337]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3459

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3509 ترقیم فقہی: -- 3338
(استوصوا بالأنصار خيرا- أو قال: معروفا-؛ اقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم) .
علی بن زید کہتے ہیں کہ انصار کے سردار کی طرف سے مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کوئی (‏‏‏‏قابل اعتراض) بات پہنچی، انہوں نے اسے برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا، اتنے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: انصار صحابہ کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو، ان میں سے نیکی کرنے والوں سے حسن سلوک کرو اور غلطی کرنے والوں سے درگزر کرو۔ (‏‏‏‏ یہ سن کر) سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنے رخسار کو زمین پر رکھ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سر آنکھوں پر۔ پھر انصاری کو چھوڑ دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3338]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3509

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 668 ترقیم فقہی: -- 3339
-" آية الإيمان حب الأنصار وآية المنافق بغض الأنصار".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏انصار سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3339]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 668

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں