🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
انصار کے فضائل و مناقب
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3509 ترقیم فقہی: -- 3338
(استوصوا بالأنصار خيرا- أو قال: معروفا-؛ اقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم) .
علی بن زید کہتے ہیں کہ انصار کے سردار کی طرف سے مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کو کوئی (‏‏‏‏قابل اعتراض) بات پہنچی، انہوں نے اسے برا بھلا کہنے کا ارادہ کیا، اتنے میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آ گئے اور اسے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: انصار صحابہ کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو، ان میں سے نیکی کرنے والوں سے حسن سلوک کرو اور غلطی کرنے والوں سے درگزر کرو۔ (‏‏‏‏ یہ سن کر) سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو چارپائی سے نیچے گرا دیا اور اپنے رخسار کو زمین پر رکھ دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سر آنکھوں پر۔ پھر انصاری کو چھوڑ دیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3338]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3509

قال الشيخ الألباني:
(استوصوا بالأنصار خيرا- أو قال: معروفا-؛ اقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسيئهم) .
‏‏‏‏
‏‏‏‏أخرجه أحمد (3/ 241) قال: ثنا مؤمل: ثنا حماد- يعني: ابن سلمة-: ثنا على بن زيد قال:
‏‏‏‏بلغ مصعب بن الزبير عن عريف الأنصار شيء؛ فهم به، فدخل عليه أنس ابن مالك، فقال له:
‏‏‏‏سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: ... فذكره. فألقى مصعب نفسه عن سريره؛ وألزق خده بالبساط، وقال:
‏‏‏‏أمر رسول الله - صلى الله عليه وسلم -على الرأس والعين؛ فتركه.
‏‏‏‏قلت: وهذا إسناد ضعيف؛ من أجل مؤمل- وهو ابن إسماعيل-، وعلي بن زيد- وهو ابن جدعان-.
‏‏‏‏
‏‏‏‏__________جزء : 7 /صفحه : 1463__________
‏‏‏‏
‏‏‏‏لكن الحديث له شواهد كثيرة تدل على أنه له أصلا، تقدم بعضها برقم (916 و917 و3430) . *

 
Silsilat al-Ahadith al-Sahihah Hadith 3338 in Urdu