سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
بن دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والوں کی فضیلت
ترقیم الباني: 2888 ترقیم فقہی: -- 3347
-" وددت أني لقيت إخواني، فقال أصحابه: أوليس نحن إخوانك؟ قال: أنتم أصحابي ولكن إخواني الذين آمنوا بي ولم يروني".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔“ صحابہ نے کہا: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ ہیں جو بن دیکھے مجھ پر ایمان لائیں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3347]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2888
ترقیم الباني: 1241 ترقیم فقہی: -- 3348
-" طوبى لمن رآني وآمن بي وطوبى ـ سبع مرات ـ لمن لم يرني وآمن بي".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میرا دیدار کیا اور مجھ پر ایمان لایا، اس کے لیے ایک دفعہ خوشخبری ہے اور جو (اللہ کا بندہ) بن دیکھے مجھ پر ایمان لائے گا، اس کے لیے سات دفعہ خوشخبری ہے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3348]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1241
ترقیم الباني: 3310 ترقیم فقہی: -- 3349
- (قوم يأتون من بعدكم، يأتيهم كتاب بين لوحين، يؤمنون به ويعملون بما فيه، أولئك أعظم منكم أجراً).
صالح بن جبیر کہتے ہیں کہ صحابی رسول سیدنا ابوجمعہ انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے آئے۔ ہمارے ساتھ رجا بن حیوہ بھی تھے، جب وہ جانے لگے تو ہم ان کو رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ نکلے۔ جب ہم نے واپس ہونا چاہا تو انہوں نے کہا: تمہارے لیے میرے پاس ایک انعام اور حق ہے۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ ہم نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، بیان کرو۔ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمارے ساتھ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سمیت دس مزید صحابہ بھی تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ایسے لوگ بھی ہیں جو اجر و ثواب میں ہم سے بڑھ کر ہوں، ہم تو آپ پر (براہ راست) ایمان لائے ہیں اور آپ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا (تم ایمان کیوں نہ لاتے) کون سی چیز تمہارے راستے میں روڑے اٹکا سکتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اندر موجود ہیں، (تمہارے سامنے) آسمان سے ان پر وحی نازل ہوتی ہے؟ ( اجر و ثواب میں افضل لوگ) وہ ہیں جو تمہارے بعد آئیں گے، انہیں ( یہ قرآن مجید) دو گتوں میں موصول ہو گا، وہ اس پر ایمان لائیں اور اس پر عمل کریں گے ( حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا ہو گا نہ قرآن مجید کو نازل ہوتے ہوئے)، یہ لوگ اجر و ثواب میں تم سے افضل و اعلیٰ ہوں گے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/المناقب والمثالب/حدیث: 3349]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3310