صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ إِذَا بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ:
باب: پیوند لگانے کے بعد اگر کھجور کا درخت بیچے؟
حدیث نمبر: 2716
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کوئی ایسا کھجور کا باغ بیچا جس کی پیوند کاری ہو چکی تھی تو اس کا پھل (اس سال کے) بیچنے والے ہی کا ہو گا۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے (تو پھل سمیت بیع سمجھی جائے گی)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2716]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص کھجور کا پیوند شدہ درخت فروخت کرے تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے، ہاں اگر خریدار پھل کی شرط لگا دے تو پھل سمیت درخت اس کا ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2716]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة