🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سلسله احاديث صحيحه ترقیم البانی سے تلاش کل احادیث (4035)
حدیث نمبر لکھیں:
سلسله احاديث صحيحه ترقیم فقہی سے تلاش کل احادیث (4103)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 3344 ترقیم فقہی: -- 4055
- (ذاك إبراهيم عليه السلام. يعني: أنّه خير البريّة) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے خیر البرّیہ! (‏‏‏‏یعنی مخلوقات میں سے بہترین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (‏‏‏‏وصف تو) ابراہیم علیہ السلام کا تھا۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4055]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 3344

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم الباني: 1945 ترقیم فقہی: -- 4056
-" عجبت لصبر أخي يوسف وكرمه - والله يغفر له - حيث أرسل إليه ليستفتي في الرؤية، ولو كنت أنا لم أفعل حتى أخرج، وعجبت لصبره وكرمه - والله يغفر له - أتى ليخرج فلم يخرج حتى أخبرهم بعذره، ولو كنت أنا لبادرت الباب".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام، اﷲ تعالیٰ ٰ ان کو معاف فرمائے، کے صبر اور کشادہ دلی پر بڑا تعجب ہے، جب ان کی طرف خواب کی تعبیر بیان کرنے کا پیغام بھیجا گیا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تعبیر بیان کرنے سے پہلے (‏‏‏‏جیل سے) باہر نکل آتا۔ بس ان کے صبر اور فیاضی پر بڑا تعجب ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے، ان کے پاس آدمی آیا تاکہ وہ باہر نکل آئیں لیکن وہ اس وقت تک نہ نکلے، جب تک ان پر اپنے عذر کی وضاحت نہیں کر دی۔ اگر میں ہوتا تو دروازے کی طرف لپک پڑتا۔ اگر ”اپنے آقا کے پاس میرا تذکرہ کرنا“ (‏‏‏‏سورۃ یوسف: ۴۲) والی بات نہ ہوتی تو وہ جیل میں نہ ٹھہر تے، جب کہ وہ غیر اللہ سے پریشانی کا ازالہ چاہ رہے تھے۔“ [سلسله احاديث صحيحه/السيرة النبوية وفيها الشمائل/حدیث: 4056]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1945

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں