🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

110. بَابُ الْبَيْعَةِ فِي الْحَرْبِ أَنْ لاَ يَفِرُّوا:
باب: لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2958
وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَلَى الْمَوْتِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ}.
‏‏‏‏ اور بعض نے کہا کہ موت پر (بیعت کی) کیوں کہ اللہ پاک نے سورۃ الفتح میں فرمایا «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة‏» بیشک اللہ مسلمانوں سے راضی ہو چکا ہے جب وہ درخت (شجرۃ رضوان) کے نیچے تیرے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q2958]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2958
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، رَجَعْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَمَا اجْتَمَعَ مِنَّا اثْنَانِ عَلَى الشَّجَرَةِ الَّتِي بَايَعْنَا تَحْتَهَا كَانَتْ رَحْمَةً مِنَ اللَّهِ، فَسَأَلْتُ نَافِعًا عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعَهُمْ عَلَى الْمَوْتِ، قَالَ: لَا بَلْ بَايَعَهُمْ عَلَى الصَّبْرِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ (صلح حدیبیہ کے بعد) جب ہم دوسرے سال پھر آئے، تو ہم میں سے (جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) دو شخص بھی اس درخت کی نشان دہی پر متفق نہیں ہو سکے۔ جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور یہ صرف اللہ کی رحمت تھی۔ جویریہ نے کہا، میں نے نافع سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کس بات پر بیعت کی تھی، کیا موت پر لی تھی؟ فرمایا کہ نہیں، بلکہ صبر و استقامت پر بیعت لی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2958]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ (صلح حدیبیہ کے بعد) جب ہم دوسرے سال دوبارہ آئے تو ہم میں سے وہ شخص بھی اس درخت کی نشاندہی پر متفق نہ ہو سکے جس کے نیچے ہم نے بیعت کی تھی۔ اس (درخت) کا چھپ جانا بھی اللہ کی طرف سے رحمت تھا۔ (راویِ حدیث نے کہا) ہم نے حضرت نافع رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سے کن امور پر بیعت لی تھی؟ کیا موت پر بیعت لی تھی؟ انہوں نے فرمایا: (موت پر) نہیں، بلکہ صبر و استقامت پر بیعت لی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2958]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2959
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ زَمَنُ الْحَرَّةِ أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ ابْنَ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ عَلَى الْمَوْتِ، فَقَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حرہ کی لڑائی کے زمانہ میں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہ بن حنظلہ لوگوں سے (یزید کے خلاف) موت پر بیعت لے رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میں موت پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2959]
حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ واقعہ حرہ میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے ان سے کہا کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا لوگوں سے موت پر بیعت لے رہا ہے، تو حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے اس پر بیعت نہیں کروں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2959]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2960
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَدَلْتُ إِلَى ظِلِّ الشَّجَرَةِ فَلَمَّا خَفَّ النَّاسُ، قَالَ:" يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ أَلَا تُبَايِعُ، قَالَ: قُلْتُ: قَدْ بَايَعْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَأَيْضًا فَبَايَعْتُهُ الثَّانِيَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تُبَايِعُونَ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، اور ان سے سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا (حدیبیہ کے موقع پر) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ پھر ایک درخت کے سائے میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا، ابن الاکوع کیا بیعت نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں تو بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دوبارہ اور بھی! چنانچہ میں نے دوبارہ بیعت کی (یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ) میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا، ابومسلم اس دن آپ حضرات نے کس بات پر بیعت کی تھی؟ کہا کہ موت پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2960]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور اس کے بعد میں ایک درخت کے سائے کے نیچے چلا گیا، پھر جب ہجوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اے ابن اکوع رضی اللہ عنہ! کیا تم بیعت نہیں کرو گے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں تو بیعت کر چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر سہی۔ لہٰذا میں نے آپ سے دوبارہ بیعت کی۔ (راویِ حدیث کہتا ہے) میں نے ان سے کہا: ابو مسلم! تم نے اس دن کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: موت پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2960]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2961
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَتْ الْأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ تَقُولُ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا عَلَى الْجِهَادِ مَا حَيِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا۔ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ انصار خندق کھودتے ہوئے (غزوہ خندق کے موقع پر) کہتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2961]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: خندق کی لڑائی میں انصار کہتے تھے: ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے، یہ بیعت ہمیشہ کے لیے ہے جب تک ہم زندہ رہیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یہ) جواب دیا: «اللّٰهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ، فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ» اے اللہ! آخرت کی زندگی کے علاوہ کوئی زندگی نہیں، تو انصار و مہاجرین کو عزت عطا فرما۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2961]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2962
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي، فَقُلْتُ: بَايِعْنَا عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا"، فَقُلْتُ: عَلَامَ تُبَايِعُنَا، قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ (فتح مکہ کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو (مکہ کے فتح ہونے کے بعد، وہاں سے) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی۔ میں نے عرض کیا، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2962]
حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور میرا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہجرت تو مسلمان کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ میں نے عرض کیا: اب آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا: اسلام پر استقامت اور جہاد پر گامزن رہنے پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2962]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاشِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَخِي، فَقُلْتُ: بَايِعْنَا عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ:" مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا"، فَقُلْتُ: عَلَامَ تُبَايِعُنَا، قَالَ:" عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن فضیل سے سنا، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، اور ان سے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے بھائی کے ساتھ (فتح مکہ کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت تو (مکہ کے فتح ہونے کے بعد، وہاں سے) ہجرت کر کے آنے والوں پر ختم ہو گئی۔ میں نے عرض کیا، پھر آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اور جہاد پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2963]
حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرا بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم سے ہجرت پر بیعت لے لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہجرت تو مسلمان کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ میں نے عرض کیا: اب آپ ہم سے کس بات پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام پر استقامت اور جہاد پر گامزن رہنے پر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں