مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
احرام کھولتے وقت بالوں کا منڈوا لینا یا کتروا لینا۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج میں سر کے بالوں کو منڈوا ڈالا تھا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 850]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر اپنی رحمت فرما۔“ صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں پر (بھی رحمت کی دعا فرمائیے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحمت نازل فرما۔“ صحابہ نے پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں پر بھی (رحمت کی دعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار) فرمایا: ”بال کتروا لے والوں پر بھی (رحمت فرما)۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 851]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف کر دے۔“ صحابہ نے کہا: ”بال کتروانے والوں کو بھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف فرما دے۔“ صحابہ نے کہا: ”بال کتروا لے والوں کو بھی۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: ”بال کتروانے والوں کی بھی مغفرت فرما۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 852]
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایک قینچی سے کتر دیے تھے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 853]