صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 4025
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ , وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، قَالَتْ:" فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ: بِئْسَ مَا قُلْتِ , تَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا , فَذَكَرَ حَدِيثَ الْإِفْكِ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تہمت کے متعلق سنا۔ ان میں سے ہر ایک نے مجھ سے اس واقعہ کا کوئی حصہ بیان کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ میں اور ام مسطح باہر قضائے حاجت کو جا رہے تھے کہ ام مسطح رضی اللہ عنہا اپنی چادر میں الجھ کر پھسل پڑیں۔ اس پر ان کی زبان سے نکلا، مسطح کا برا ہو۔ میں نے کہا، آپ نے اچھی بات نہیں کہی۔ ایک ایسے شخص کو آپ برا کہتی ہیں جو بدر میں شریک ہو چکا ہے۔ پھر انہوں نے تہمت کا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4026
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:" هَذِهِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلْقِيهِمْ:" هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا"، قَالَ: مُوسَى، قَالَ نَافِعٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي نَاسًا أَمْوَاتًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا قُلْتُ مِنْهُمْ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:" فَجَمِيعُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ مِمَّنْ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ أَحَدٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا , وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَ الزُّبَيْرُ: قُسِمَتْ سُهْمَانُهُمْ فَكَانُوا مِائَةً وَاللَّهُ أَعْلَمُ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا بیان تھا۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ جب (بدر کے) کفار مقتولین کنویں میں ڈالے جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم نے اس چیز کو پا لیا جس کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟“ موسیٰ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسے لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کچھ میں نے ان سے کہا ہے اسے خود تم نے بھی ان سے زیادہ بہتر طریقہ پر نہیں سنا ہو گا۔“ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ قریش (صحابہ) کے جتنے لوگ بدر میں شریک ہوئے تھے اور جن کا حصہ بھی (اس غنیمت میں) لگا تھا، ان کی تعداد اکیاسی تھی۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے تھے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے (ان مہاجرین کے حصے) تقسیم کئے تھے اور ان کی تعداد سو تھی اور زیادہ بہتر علم اللہ کو ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4026]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4027
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" ضُرِبَتْ يَوْمَ بَدْرٍ لِلْمُهَاجِرِينَ بِمِائَةِ سَهْمٍ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کے دن مہاجرین کے سو حصے لگائے گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4027]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة