🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابٌ:
باب:۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4025
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ , وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ , وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، قَالَتْ:" فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ: بِئْسَ مَا قُلْتِ , تَسُبِّينَ رَجُلًا شَهِدَ بَدْرًا , فَذَكَرَ حَدِيثَ الْإِفْكِ".
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی تہمت کے متعلق سنا۔ ان میں سے ہر ایک نے مجھ سے اس واقعہ کا کوئی حصہ بیان کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا تھا کہ میں اور ام مسطح باہر قضائے حاجت کو جا رہے تھے کہ ام مسطح رضی اللہ عنہا اپنی چادر میں الجھ کر پھسل پڑیں۔ اس پر ان کی زبان سے نکلا، مسطح کا برا ہو۔ میں نے کہا، آپ نے اچھی بات نہیں کہی۔ ایک ایسے شخص کو آپ برا کہتی ہیں جو بدر میں شریک ہو چکا ہے۔ پھر انہوں نے تہمت کا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4025]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں اور ام مسطح رضی اللہ عنہا جا رہی تھیں کہ اچانک ام مسطح اپنی چادر میں پھسل پڑیں، ان کی زبان سے نکلا: مسطح کا برا ہو۔ میں نے کہا: تو نے اچھی بات نہیں کہی، ایک ایسے شخص کو برا کہتی ہو جو بدر کی جنگ میں شریک ہو چکا ہے؟ پھر انہوں نے تہمت کا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4026
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ:" هَذِهِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلْقِيهِمْ:" هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَكُمْ رَبُّكُمْ حَقًّا"، قَالَ: مُوسَى، قَالَ نَافِعٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُنَادِي نَاسًا أَمْوَاتًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا قُلْتُ مِنْهُمْ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ:" فَجَمِيعُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ مِمَّنْ ضُرِبَ لَهُ بِسَهْمِهِ أَحَدٌ وَثَمَانُونَ رَجُلًا , وَكَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَ الزُّبَيْرُ: قُسِمَتْ سُهْمَانُهُمْ فَكَانُوا مِائَةً وَاللَّهُ أَعْلَمُ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا بیان تھا۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ جب (بدر کے) کفار مقتولین کنویں میں ڈالے جانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس چیز کو پا لیا جس کا تم سے تمہارے رب نے وعدہ کیا تھا؟ موسیٰ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ایسے لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں نے ان سے کہا ہے اسے خود تم نے بھی ان سے زیادہ بہتر طریقہ پر نہیں سنا ہو گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ قریش (صحابہ) کے جتنے لوگ بدر میں شریک ہوئے تھے اور جن کا حصہ بھی (اس غنیمت میں) لگا تھا، ان کی تعداد اکیاسی تھی۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے تھے کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا، میں نے (ان مہاجرین کے حصے) تقسیم کئے تھے اور ان کی تعداد سو تھی اور زیادہ بہتر علم اللہ کو ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4026]
حضرت ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات کا بیان ہے۔ پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کی لاشوں کو قلیبِ بدر میں پھینکوا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے رب نے تم سے (سزا کا) جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے سچا پا لیا ہے؟ راوی کہتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ایسے لوگوں کو آواز دے رہے ہیں جو مر چکے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں، تم اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تمام قریش مہاجر جو بدر میں شریک تھے اور انہیں غنیمت سے حصہ ملا ان کی تعداد اکیاسی تھی۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کے حصے تقسیم کیے گئے اور وہ ایک سو تھے۔ «وَاللَّهُ أَعْلَمُ» اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4026]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4027
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ:" ضُرِبَتْ يَوْمَ بَدْرٍ لِلْمُهَاجِرِينَ بِمِائَةِ سَهْمٍ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہ ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کے دن مہاجرین کے سو حصے لگائے گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4027]
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بدر کے روز مہاجرین کے لیے سو حصے مقرر کیے گئے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4027]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں