🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ شُهُودِ الْمَلاَئِكَةِ بَدْرًا:
باب: جنگ بدر میں فرشتوں کا شریک ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3992
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ قَالَ:" مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ" أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ".
مجھ سے اسحاق بن ابرہیم نے بیان کیا، ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں معاذ بن رفاعہ بن رافع زرقی نے اپنے والد (رفاعہ بن رافع) سے، جو بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں میں سے تھے، انہوں نے بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے انہوں نے پوچھا کہ بدر کی لڑائی میں شریک ہونے والوں کا آپ کے یہاں درجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سب سے افضل یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کا کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ جو فرشتے بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے ان کا بھی درجہ یہی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3992]
حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک تھے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر پوچھا: آپ اہل بدر کو اپنے ہاں کیا مقام دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سب مسلمانوں سے افضل ہیں۔ یا اس کی مانند کوئی کلمہ ارشاد فرمایا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: اسی طرح وہ فرشتے جو غزوہ بدر میں حاضر ہوئے وہ بھی دیگر فرشتوں سے افضل ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3992]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3993
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ , وَكَانَ رِفَاعَةُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ وَكَانَ رَافِعٌ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ , فَكَانَ يَقُولُ لِابْنِهِ:" مَا يَسُرُّنِي أَنِّي شَهِدْتُ بَدْرًا بِالْعَقَبَةِ"، قَالَ: سَأَلَ جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے معاذ بن رفاعہ بن رافع نے کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے اور (ان کے والد) رافع رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ میں شریک ہوئے تھے تو آپ اپنے بیٹے (رفاعہ) سے کہا کرتے تھے کہ بیعت عقبہ کے برابر بدر کی شرکت سے مجھے زیادہ خوشی نہیں ہے۔ بیان کیا کہ جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3993]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور وہ بدر کی لڑائی میں شریک ہوئے تھے جبکہ (ان کے والد) حضرت رافع رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ کرنے والوں میں موجود تھے، وہ اپنے بیٹے (حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ) سے کہا کرتے تھے: بیعت عقبہ کی حاضری کے مقابلے میں مجھے بدر کی حاضری سے اتنی خوشی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بیان کیا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3993]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3994
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ،أَخْبَرَنَا يَحْيَى، سَمِعَ مُعَاذَ بْنَ رِفَاعَةَ، أَنَّ مَلَكًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَعَنْ يَحْيَى، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْهَادِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ حَدَّثَهُ مُعَاذٌ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يَزِيدُ: فَقَالَ مُعَاذٌ:" إِنَّ السَّائِلَ هُوَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام".
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی اور انہوں نے معاذ بن رفاعہ سے سنا کہ ایک فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت ہے کہ یزید بن ہاد نے انہیں خبر دی کہ جس دن معاذ بن رفاعہ نے ان سے یہ حدیث بیان کی تھی تو وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ یزید نے بیان کیا کہ معاذ نے کہا تھا کہ پوچھنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3994]
حضرت معاذ بن رفاعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک فرشتے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔ (راویِ حدیث) حضرت یحییٰ کہتے ہیں کہ جس دن معاذ بن رفاعہ انہیں یہ حدیث بیان کر رہے تھے وہ یزید بن ہاد کے ہمراہ تھے۔ یزید نے کہا: معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سوال کرنے والے حضرت جبریل علیہ السلام تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3995
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَوْمَ بَدْرٍ هَذَا جِبْرِيلُ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ عَلَيْهِ أَدَاةُ الْحَرْبِ".
مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ یہ ہیں جبرائیل علیہ السلام اپنے گھوڑے کا سر تھامے ہوئے اور ہتھیار لگائے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3995]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا: یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں جو اپنے گھوڑے کا سر تھامے لڑائی کے لیے ہتھیار لگائے ہوئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3995]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں