بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب صلاة المسافر والمريض
مسافر اور مریض کی نماز کا بیان
حدیث نمبر: 351
وعن عمران بن حصين رضي الله عنهما قال: كانت بي بواسير فسألت النبي صلى الله عليه وآله وسلم عن الصلاة فقال: «صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب» . رواه البخاري.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مجھے بواسیر کا مرض تھا۔ اس صورت میں میں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم سے نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کھڑے ہو کر پڑھو اگر کھڑے ہو کر نہ پڑھ سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور اس کی بھی طاقت و استطاعت نہ ہو تو پھر پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لو۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 351]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، تقصير الصلاة، باب إذا لم يطق قاعدًا صلي علي جنب، حديث:1117.»
حدیث نمبر: 352
وعن جابر رضي الله عنه قال: عاد النبي صلى الله عليه وآله وسلم مريضا فرآه يصلي على وسادة فرمى بها وقال: «صل على الأرض إن استطعت وإلا فأوم إيماء واجعل سجودك أخفض من ركوعك» . رواه البيهقي وصحح أبو حاتم وقفه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کی عیادت فرمائی تو دیکھا کہ وہ تکیہ پر نماز پڑھ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تکیہ دور پھینک دیا اور فرمایا کہ ”زمین پر نماز پڑھ اگر تمہارے بس میں ہے ورنہ سر کے اشارے سے پڑھ لے۔ اور اپنے سجدوں کو اپنے رکوع سے نیچے کرو۔ (یعنی سجدہ میں رکوع کی نسبت زیادہ جھکو)۔“
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 352]
بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے موقوف ہونے کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 352]
تخریج الحدیث: «تقدم261.»
حدیث نمبر: 353
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: رأيت النبي صلى الله عليه وآله وسلم يصلي متربعا. رواه النسائي وصححه الحاكم.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو «متربعا» (چارزانو) ہو کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 353]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي، قيام الليل، باب كيف صلاة القاعد، حديث:1662، والحاكم:1 /258.* حفص بن غياث عنعن، وحديث البخاري يخالفه، ولو صح لكان محمولًا علي العذر.»