🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب صدقة الفطر
صدقہ فطر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة. متفق عليه. ولابن عدي من وجه آخر والدارقطني بإسناد ضعيف: «‏‏‏‏أغنوهم عن الطواف في هذا اليوم» .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد، عورت، بچے، بوڑھے سب پر صدقہ فطر واجب کیا ہے۔ ایک صاع (ٹوپا) کھجوروں سے یا ایک صاع جو سے اور اس کے متعلق حکم دیا ہے کہ یہ فطرانہ نماز کیلئے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ (بخاری و مسلم) ابن عدی اور دارقطنی میں ضعیف سند سے ہے کہ اس روز غرباء کو در بدر پھرنے سے بے نیاز کر دو۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 505]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَرَضَ» فرض کیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «زَكَاةَ الْفِطْرِ» صدقۂ فطر کو – «صَاعًا» ایک صاع – «مِنْ تَمْرٍ» کھجور کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ شَعِيرٍ» جو کا – «عَلَى الْعَبْدِ» غلام پر – «وَالْحُرِّ» اور آزاد پر – «وَالذَّكَرِ» اور مرد پر – «وَالْأُنْثَى» اور عورت پر – «وَالصَّغِيرِ» اور چھوٹے پر – «وَالْكَبِيرِ» اور بڑے پر – «مِنَ الْمُسْلِمِينَ» مسلمانوں میں سے – «وَأَمَرَ بِهَا» اور اس کا حکم دیا – «أَنْ تُؤَدَّى» کہ ادا کیا جائے – «قَبْلَ خُرُوجِ» نکلنے سے پہلے – «النَّاسِ» لوگوں کے – «إِلَى الصَّلَاةِ» نماز (عید) کی طرف۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِابْنِ عَدِيٍّ» اور ابن عدی کی روایت میں ہے – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک دوسری سند سے – «وَالدَّارَقُطْنِيِّ» اور دارقطنی کی – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ: – «أَغْنُوهُمْ» انہیں بے نیاز کر دو – «عَنِ الطَّوَافِ» گھومنے (مانگنے) سے – «فِي هَذَا الْيَوْمِ» اس دن میں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ہر غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے پر صدقۂ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو فرض کیا، اور حکم دیا کہ اسے لوگوں کے نماز (عید) کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ابن عدی نے ایک دوسری سند سے اور دارقطنی نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے: ”اس دن انہیں (فقراء کو) گھوم پھر کر مانگنے سے بے نیاز کر دو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 505]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب فرض صدقة الفطر،حديث:1503، ومسلم، الزكاة، باب زكاة الفطر علي المسلمين من التمر والشعير، حديث:984، وحديث "أغنوهم عن الطواف.." أخرجه ابن عدي:7 /2519، والدارقطني:2 /153، فيه أبومعشر نجيح السندي وهو ضعيف، وللحديث شواهد ضعيفة.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: كنا نعطيها في زمن النبي صلى الله عليه وآله وسلم صاعا من طعام أو صاعا من تمر أو صاعا من شعير أو صاعا من زبيب. متفق عليه. وفي رواية:" أو صاعا من أقط". قال أبو سعيد: أما أنا فلا أزال أخرجه كما كنت أخرجه في زمن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم. ولأبي داود: لا أخرج أبدا إلا صاعا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گندم سے ایک صاع اور کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع اور کشمش (منقی) سے ایک صاع (فطرانہ) دیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ پنیر میں سے ایک صاع نکالا کرتے تھے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو ہمیشہ وہی مقدار نکالتا رہوں گا جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نکالا کرتا تھا اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ میں تو ہمیشہ ایک صاع ہی نکالوں گا۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 506]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «كُنَّا نُعْطِيهَا» ہم اسے (صدقۂ فطر) دیا کرتے تھے – «فِي زَمَنِ» زمانے میں – «النَّبِيِّ» نبی کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «صَاعًا» ایک صاع – «مِنْ طَعَامٍ» کھانے (غلے) کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ تَمْرٍ» کھجور کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ شَعِيرٍ» جو کا – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ زَبِيبٍ» منقیٰ کا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «أَوْ صَاعًا» یا ایک صاع – «مِنْ أَقِطٍ» پنیر کا۔ – «قَالَ» کہا – «أَبُو سَعِيدٍ» ابو سعید نے: – «أَمَّا أَنَا» رہا میں – «فَلَا أَزَالُ» تو میں ہمیشہ – «أُخْرِجُهُ» اسے نکالتا رہوں گا – «كَمَا كُنْتُ» جیسے میں – «أُخْرِجُهُ» اسے نکالا کرتا تھا – «فِي زَمَنِ» زمانے میں – «رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت میں ہے: – «لَا أُخْرِجُ» میں نہیں نکالوں گا – «أَبَدًا» کبھی بھی – «إِلَّا صَاعًا» مگر ایک صاع۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں صدقۂ فطر ایک صاع غلہ، یا ایک صاع کھجور، یا ایک صاع جو، یا ایک صاع منقیٰ دیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: ”یا ایک صاع پنیر۔“ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رہا میں، تو میں ہمیشہ اسی طرح نکالتا رہوں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نکالا کرتا تھا۔ اور ابو داود کی روایت میں ہے: میں کبھی بھی ایک صاع کے سوا (کم) نہیں نکالوں گا۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الزكاة، باب صاع من زبيب،حديث:1508، ومسلم، الزكاة، باب زكاة الفطر علي المسلمين من التمر والشعير، حديث:985، وأبوداود، الزكاة، حديث:1616-1618.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: فرض رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين فمن أداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن أداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات. رواه أبو داود وابن ماجه وصححه الحاكم.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر (فطرانہ) روزہ دار کی لغویات اور فحش گوئی سے روزہ کو پاک کرنے کیلئے اور مساکین کو کھانا کھلانے کیلئے مقرر کیا ہے۔ جو اسے نماز ادا کرنے سے پہلے ادا کر دے وہ مقبول ہے اور جو ادائیگی نماز کے بعد دیا جائے تو یہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 507]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَرَضَ» فرض کیا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «زَكَاةَ الْفِطْرِ» صدقۂ فطر کو – «طُهْرَةً» پاکیزگی (کے طور پر) – «لِلصَّائِمِ» روزہ دار کے لیے – «مِنَ اللَّغْوِ» لغو (بے ہودہ باتوں) سے – «وَالرَّفَثِ» اور فحش گوئی سے – «وَطُعْمَةً» اور کھانا (کے طور پر) – «لِلْمَسَاكِينِ» مسکینوں کے لیے – «فَمَنْ أَدَّاهَا» پس جس نے اسے ادا کیا – «قَبْلَ الصَّلَاةِ» نماز سے پہلے – «فَهِيَ» تو وہ – «زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ» مقبول زکاۃ ہے – «وَمَنْ أَدَّاهَا» اور جس نے اسے ادا کیا – «بَعْدَ الصَّلَاةِ» نماز کے بعد – «فَهِيَ» تو وہ – «صَدَقَةٌ» ایک صدقہ ہے – «مِنَ الصَّدَقَاتِ» عام صدقات میں سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقۂ فطر کو روزہ دار کے لیے لغو اور بے ہودہ باتوں سے پاکیزگی اور مسکینوں کے لیے کھانے کے طور پر فرض کیا۔ پس جس نے اسے نماز (عید) سے پہلے ادا کیا تو وہ مقبول زکاۃ ہے، اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ اسے ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب زكاة الفطر، حديث:1609، وابن ماجه، الزكاة، حديث:1827، والحاكم:1 /409.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں