بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب العدة والإحداد والا ستنبراء وغير ذلك
عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان
حدیث نمبر: 955
وعن عائشة رضي الله عنها قالت:" إنما الأقراء الأطهار" أخرجه مالك في قصة بسند صحيح.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اقراء سے طہر ہی مراد ہیں۔ اسے مالک، احمد اور نسائی نے ایک قصہ میں سند صحیح کے ساتھ نقل کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 955]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ: 2 /576، 577.»
حدیث نمبر: 956
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال:" طلاق الأمة تطليقتان وعدتها حيضتان" رواه الدارقطني وأخرجه مرفوعا وضعفه وأخرجه أبو داود والترمذي وابن ماجه من حديث عائشة رضي الله عنها وصححه الحاكم وخالفوه فاتفقوا على ضعفه
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لونڈی کی طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے مرفوع بھی روایت کیا ہے مگر اسے ضعیف کہا ہے۔ نیز اس روایت کی تخریج ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے کی ہے۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے مگر دوسرے محدثین نے ان کی مخالفت کی ہے، وہ اس کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 956]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:4 /38 وقال: "تفردبه عمر بن شبيب مرفوعًا وكان ضعيفًا" وعطية العوفي ضعيف مدلس وعنعن، وحديث عائشة: أخرجه أبوداود، الطلاق، حديث:2189، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1182 (مظاهر بن أسلم ضعيف).»
حدیث نمبر: 957
وعن رويفع بن ثابت رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يحل لامرىء يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسقي ماءه زرع غيره» أخرجه أبو داود والترمذي وصححه ابن حبان وحسنه البزار
سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ غیر کی کھیتی کو اپنے پانی سے سیراب کرے۔“ اس کی تخریج ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بزار نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 957]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في وطء السبايا، حديث:2158، والترمذي، النكاح، حديث:1131، وابن حبان(الإحسان):7 /169، 170، والبزار.»
حدیث نمبر: 958
وعن عمر رضي الله عنه في امرأة المفقود" تربص أربع سنين ثم تعتد أربعة أشهر وعشرا" أخرجه مالك والشافعي.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گم شدہ، مفقود الخبر مرد کی عورت کیلئے فرمایا، اس کیلئے چار سال انتظار کرنا ہے۔ اس کے بعد چار ماہ دس دن عدت گزارے۔ مالک و شافعی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 958]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ: 2 /575، وعنه الشافعي في الأم:7 /236.»
حدیث نمبر: 959
وعن المغيرة بن شعبة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «امرأة المفقود امرأته حتى يأتيها البيان» . أخرجه الدارقطني بإسناد ضعيف.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مفقود الخبر مرد کی بیوی، اس کی بیوی ہے جب تک کہ گمشدہ کے متعلق واضح طور پر اطلاع موصول نہ ہو جائے۔“ دارقطنی نے اسے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 959]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني: 3 /312، وقال أبوحاتم: "هذا حديث منكر، ومحمد بن شرحبيل متروك الحديث، يروي عن المغيرة بن شعبة عن النبي صلي الله عليه وسلم أحاديث مناكير أباطيل"، علل الحديث:1 /432.»
حدیث نمبر: 960
وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا يبيتن رجل عند امرأة إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم» . رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص کسی عورت کے پاس رات بسر نہ کرے۔ الایہ کہ وہ مرد اس کا شوہر ہو یا محرم ہو۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 960]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، السلام، باب تحريم الخلوة بالأجنبية والدخول عليها، حديث:2171.»
حدیث نمبر: 961
وعن ابن عباس رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا مع ذي محرم» أخرجه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص بھی کسی عورت کے ساتھ تنہائی و خلوت اختیار نہ کرے جب تک کہ اس کے ساتھ اس کا محرم نہ ہو۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 961]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم...، حديث:5233.»
حدیث نمبر: 962
وعن أبي سعيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في سبايا أوطاس: «لا توطأ حامل حتى تضع ولا غير ذات حمل حتى تحيض حيضة» . أخرجه أبو داود وصححه الحاكم وله شاهد عن ابن عباس رضي الله عنهما في الدارقطني.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا ”حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے، اس سے جماع نہ کیا جائے نیز غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک وطی نہ کی جائے جب تک اسے ایک ماہواری نہ آ جائے۔“ اس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دارقطنی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اس کا شاہد مروی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 962]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في وطء السبايا، حديث:2157، والحاكم:2 /195 وصححه علي شرط مسلم، وحديث ابن عباس: أخرجه الدارقطني:3 /257 سنده ضعيف.»
حدیث نمبر: 963
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «الولد للفراش وللعاهر الحجر» متفق عليه من حديثه ومن حديث عائشة في قصة وعن ابن مسعود عند النسائي وعن عثمان عند أبي داود.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کیلئے پتھر۔“ (بخاری و مسلم) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ایک قصہ کے متعلق بھی اسی طرح روایت ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے نسائی نے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ابوداؤد نے یہی روایت بیان کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحدود، باب للعاهر الحجر، حديث:6818، ومسلم، الرضاع، باب الولد للفراش...، حديث:1458، وحديث عائشة: أخرجه البخاري، الفرائض، حديث:6749، 2053، ومسلم، الرضاع، حديث:1457، وحديث ابن مسعود: أخرجه النسائي، الطلاق، حديث:3517 وهو صحيح، وحديث عثمان: أخرجه أبوداود، الطلاق، حديث: 2275، وهو صحيح.»