🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب تَغَيُّرِ الزَّمَانِ وَمَا يَحْدُثُ فِيهِ:
زمانے کے تغیر اور اس میں رونما ہونے والے حادثات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 201
أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "لَوْ أَنَّ هَؤُلَاءِ كَانُوا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَزَلَتْ عَامَّةُ الْقُرْآنِ يَسْأَلُونَكَ، يَسْأَلُونَكَ".
امام شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر یہ اصحاب الرائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتے تو قرآن پاک میں عمومی طور پر یہ پایا جاتا: «يسألونك، يسألونك» (یعنی اسی صیغے سے آیات نازل ہوتیں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 201]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 201] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الإبانه 419/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 202
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ طَلْحَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ:"يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَاللَّهِ لَقَدْ تَكَلَّمْتُ، وَلَوْ وَجَدْتُ بُدًّا مَا تَكَلَّمْتُ، وَإِنَّ زَمَانًا أَكُونُ فِيهِ فَقِيهَ أَهْلِ الْكُوفَةِ زَمَانُ سُوءٍ".
ابوحمزه میمون سے مروی ہے کہ امام ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: اے ابوحمزه! میں نے کلام کیا ہے اور اگر کوئی چارہ ہوتا تو میں لب کشائی نہ کرتا، بیشک یہ وقت جس میں، میں کوفہ والوں کا فقیہ ہو گیا ہوں برا وقت ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 202]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ميمون أبي حمزة القصاب، [مكتبه الشامله نمبر: 202] »
اس روایت میں ابوحمزہ ضعیف ہیں، اور یہ اثر [حلية الأولياء 223/4] میں بھی موجود ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 203
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "إِيَّاكَ وَالْمُكَايَلَةَ"، يَعْنِي: فِي الْكَلَامِ.
مجاہد سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خبردار! قول و فعل میں قیاس و کلام (فلسفے) سے بچو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 203]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 203] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ حوالے کے لئے دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 65] ، [الفقيه والمتفقه 182/1] ، [الإحكام لابن حزم 1278/7]
وضاحت: (تشریح احادیث 199 سے 203)
مکایلہ یہ ہے کہ جیسا کوئی کہے تم بھی ویسا ہی کہنے لگو، کوئی جیسا کام کرے تم بھی ویسا ہی کرنے لگو۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 204
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ:"شَهِدْتُ شُرَيْحًا، وَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ مُرَادٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا أُمَيَّةَ، مَا دِيَةُ الْأَصَابِعِ؟، قَالَ: عَشْرٌ عَشْرٌ، قَالَ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ، أَسَوَاءٌ هَاتَانِ؟ جَمَعَ بَيْنَ الْخِنْصِرِ وَالْإِبْهَامِ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ، أَسَوَاءٌ أُذُنُكَ وَيَدُكَ؟ فَإِنَّ الْأُذُنَ يُوَارِيهَا الشَّعْرُ، وَالْكُمَّةُ وَالْعِمَامَةُ فِيهَا نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْيَدِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَيْحَكَ: إِنَّ السُّنَّةَ سَبَقَتْ قِيَاسَكُمْ فَاتَّبِعْ وَلَا تَبْتَدِعْ، فَإِنَّكَ لَنْ تَضِلَّ مَا أَخَذْتَ بِالْأَثَرِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَالَ لِي الشَّعْبِيُّ: يَا هُذَلِيُّ، لَوْ أَنَّ أَحْنَفَكُمْ قُتِلَ وَهَذَا الصَّبِيُّ فِي مَهْدِهِ أَكَانَ دِيَتُهُمَا سَوَاءً؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَيْنَ الْقِيَاسُ؟".
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: میں (قاضی) شریح رحمہ اللہ کے پاس حاضر ہوا، ان کے پاس (قبیلہ) مراد کا ایک شخص آیا اور پوچھا: ابواميۃ! انگلیوں کی دیت کتنی ہے؟ جواب دیا: ہر انگلی کے بدلے دس اونٹ، اس نے انگوٹھا اور چھوٹی انگلی کو ملایا اور کہا: سبحان اللہ! یہ دونوں برابر ہیں؟ قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: سبحان اللہ! کیا تمہارا کان اور ہاتھ برابر ہیں؟ کان تو بال یا عمامے سے ڈھک جاتا ہے تو اس میں (آدمی کی) نصف دیت ہے، اور ہاتھ میں (ایسا نہیں) اس میں بھی نصف دیت ہے۔ تمہارا برا ہو، سنت تمہارے قیاس پر مقدم ہے، سو سنت کی اتباع کرو بدعت نہ ایجاد کرو، اور جب تک تم حدیث کو پکڑے رکھو گے گمراہ نہ ہو گے۔ ابوبکر الہذلی (راوی) نے کہا: امام شعبی رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: اے ہذلی! اگر تمہارا کوئی لولا لنگڑا آدمی قتل کر دیا جائے، یا گہوارے میں (دودھ پیتا) بچہ مار ڈالا جائے تو کیا دونوں کی دیت برابر نہ ہو گی؟ میں نے کہا: جی ہاں! دونوں کی دیت برابر ہے، کہا: پھر قیاس کہاں گیا؟ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 204]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده أبو بكر الهذلي وهو متروك، [مكتبه الشامله نمبر: 204] »
اس روایت کی سند میں ابوبکر الہذلی متروک ہیں۔ اس اثر کو عبدالرزاق نے مصنف میں بہت مختصر ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [المصنف 17703] و [جامع بيان العلم 2024]
وضاحت: (تشریح حدیث 203)
اگرچہ اس قول کی نسبت قاضی شریح کی طرف صحیح نہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ حدود الله تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہیں، قیاس کی ان میں گنجائش ہی نہیں۔
«﴿تِلْكَ حُدُودُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا﴾ [البقرة: 229] »

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 205
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "يُفْتَحُ الْقُرْآنُ عَلَى النَّاسِ حَتَّى يَقْرَأَهُ الْمَرْأَةُ وَالصَّبِيُّ وَالرَّجُلُ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ: قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعُ، وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِيهِمْ لَعَلِّي أُتَّبَعُ، فَيَقُومُ بِهِ فِيهِمْ فَلَا يُتَّبَعُ، فَيَقُولُ: قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَقَدْ قُمْتُ بِهِ فِيهِمْ، فَلَمْ أُتَّبَعْ، لأَحْتَظِرْنَّ فِي بَيْتِي مَسْجِدًا لَعَلِّي أُتَّبَعْ، فَيَحْتَظِرُ فِي بَيْتِهِ مَسْجِدًا فَلَا يُتَّبَعُ، فَيَقُولُ: قَدْ قَرَأْتُ الْقُرْآنَ فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَقُمْتُ بِهِ فِيهِمْ فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَقَدْ احْتَظَرْتُ فِي بَيْتِي مَسْجِدًا , فَلَمْ أُتَّبَعْ، وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ بِحَدِيثٍ لَا يَجِدُونَهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَمْ يَسْمَعُوهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ لَعَلِّي أُتَّبَعُ، قَالَ مُعَاذٌ: فَإِيَّاكُمْ وَمَا جَاءَ بِهِ فَإِنَّ مَا جَاءَ بِهِ ضَلَالَةٌ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: قرآن کریم لوگوں پر آسان ہو جائے گا یہاں تک کہ عورت بچے اور مرد سب اس کو پڑھیں گے، آدمی کہے گا میں نے قرآن پاک پڑھا لیکن میری پیروی نہیں کی جاتی، قسم اللہ کی میں پھر اس کو (لے کر کھڑا ہوں گا) ضرور پڑھوں گا، شاید میری اتباع کی جائے، چنانچہ پھر پڑھے گا اور پھر بھی کوئی اس کی پیروی نہ کرے گا، تو وہ کہے گا: میں نے قرآن پڑھا لیکن میری پیروی نہیں کی گئی، میں اسے لے کر ان میں کھڑا ہوا، پھر بھی کوئی فائدہ نہ ہوا، اب میں اپنے گھر میں مسجد بناؤں گا شاید میری پیروی کی جائے، چنانچہ وہ اپنے گھر میں مسجد بنائے گا، پھر بھی اس کی پیروی نہ کی جائے گی تو وہ کہے گا: میں نے قرآن پڑھا لیکن میری پیروی نہ کی گئی، اسے لے کر کھڑا ہوا پھر بھی اتباع نہ کی گئی، اپنے گھر میں مسجد بنائی پھر بھی اتباع نہ کی گئی۔ قسم اللہ کی اب میں ایسی باتیں ان کے لئے لاوں گا جسے وہ اللہ عزوجل کی کتاب میں پائیں گے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوں گی شاید اس وقت میری پیروی کی جائے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! جو وہ بتائے اس سے بچنا (وہ قرآن و سنت کے علاوہ) جو کچھ لائے گا وہ گمراہی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 205]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 205] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن أبى داؤد 4611 بغير هذا السياق] ، [البدع 59، 63] ، [الإبانه 143] ، [الشريعة ص: 54، 55] ، [المعرفة والتاريخ 321/2] ، [شرح أصول اعتقاد أهل السنة 116، 117 بعدة طرق]
وضاحت: (تشریح حدیث 204)
اس اثر میں صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ جب فتنے رونما ہوں گے تو لوگ قرآن پاک کی پیروی کی طرف دھیان نہ دیں گے تو قرآن پڑھنے والے اپنی طرف سے مسائل گھڑ لیں گے، جن کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہ ہوگا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں سے بچنے اور ان کی باتیں سننے اور عمل کرنے سے منع کیا اور بتایا ہے کہ قرآن و حدیث کے علاوہ سب کچھ سراسر گمراہی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں