سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب في ذَهَابِ الْعِلْمِ:
علم کے اٹھ جانے (ختم ہو جانے) کا بیان
حدیث نمبر: 255
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، قَالَ: قَالَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا بَقِيَ الْأَوَّلُ حَتَّى يَتَعَلَّمَ الْآخِرُ، فَإِذَا هَلَكَ الْأَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْآخِرُ، هَلَكَ النَّاسُ".
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (پرانے) لوگ جب تک دوسروں کو تعلیم دے کر باقی رہیں گے خیر باقی رہے گا، اور جب (پرانے) لوگ دوسروں کے علم حاصل کرنے سے پہلے چل بسے تو لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 255]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 255] »
اس اثر کی تخرج رقم (248) پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
اس اثر کی تخرج رقم (248) پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
وضاحت: (تشریح حدیث 254)
اس میں علم حاصل کرنے کی ترغیب ہے اور علماء کے اٹھ جانے سے ہلاکت میں پڑ جانے کی تر ہیب۔
اس میں علم حاصل کرنے کی ترغیب ہے اور علماء کے اٹھ جانے سے ہلاکت میں پڑ جانے کی تر ہیب۔
حدیث نمبر: 256
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْأَحْنَفِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: "تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا".
احنف بن قیس نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرو اس سے پہلے کہ تم سردار ہو جاؤ۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 256]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 256] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت [مصنف ابن أبى شيبه 6167] ، [العلم لأبي خيثمه 9] ، [الزهد لوكيع 102] ، [الفقيه 78/2] ، [الإلماع للقاضي ص: 244] ، [شعب الإيمان 1669] و [جامع بيان العلم 508، 509] میں موجود ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور یہ روایت [مصنف ابن أبى شيبه 6167] ، [العلم لأبي خيثمه 9] ، [الزهد لوكيع 102] ، [الفقيه 78/2] ، [الإلماع للقاضي ص: 244] ، [شعب الإيمان 1669] و [جامع بيان العلم 508، 509] میں موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 255)
یعنی کم عمری میں علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ بڑے ہو جاؤ اور سردار بنا دیئے جاؤ، پھر تمہیں علم کے حصول میں شرم آئے اور تم جاہل کے جاہل بنے رہو۔
یعنی کم عمری میں علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ بڑے ہو جاؤ اور سردار بنا دیئے جاؤ، پھر تمہیں علم کے حصول میں شرم آئے اور تم جاہل کے جاہل بنے رہو۔
حدیث نمبر: 257
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ رُسْتُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: تَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبِنَاءِ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ:"يَا مَعْشَرَ الْعُرَيْبِ، الْأَرْضَ الْأَرْضَ، إِنَّهُ لَا إِسْلَامَ إِلَّا بِجَمَاعَةٍ، وَلَا جَمَاعَةَ إِلَّا بِإِمَارَةٍ، وَلَا إِمَارَةَ إِلَّا بِطَاعَةٍ، فَمَنْ سَوَّدَهُ قَوْمُهُ عَلَى الْفِقْهِ، كَانَ حَيَاةً لَهُ وَلَهُمْ، وَمَنْ سَوَّدَهُ قَوْمُهُ عَلَى غَيْرِ فِقْهٍ، كَانَ هَلَاكًا لَهُ وَلَهُمْ".
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ عمارت بنانے میں فخر کرنے لگے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عرب کے لوگو! زمین سے بچو، زمین سے بچو، اسلام بِنا جماعت کے قائم نہیں رہ سکتا، اور جماعت بغیر حکومت کے، اور حکومت و امارت بغیر اطاعت کے قائم نہیں رہ سکتی، پس جس کو اس کی قوم نے (علم و فقہ) کی بنا پر سردار بنایا وہ اس کے اور قوم کے لئے زندگی ہے، اور جس کو اس کی قوم نے فقہ نہ ہونے پر سردار بنایا یہ اس کی اور اس قوم کی ہلاکت ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 257]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: الأولى جهالة صفوان بن رستم والثانية الانقطاع. وعبد الرحمن بن ميسرة لم يدرك تميما الداري، [مكتبه الشامله نمبر: 257] »
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں جن کے سبب ضعیف ہے، اور ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 326] میں اس کو ذکر کیا ہے۔
اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں جن کے سبب ضعیف ہے، اور ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 326] میں اس کو ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 256)
ان تمام احادیث و آثار سے علمائے کرام کی قدر و قیمت ثابت ہوتی ہے، علماء نہ رہیں گے تو علم بھی نہ رہے گا، نیز ان میں علم حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔
ان تمام احادیث و آثار سے علمائے کرام کی قدر و قیمت ثابت ہوتی ہے، علماء نہ رہیں گے تو علم بھی نہ رہے گا، نیز ان میں علم حاصل کرنے کی ترغیب بھی ہے۔