سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعَالِمِ:
علم اور عالم کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 339
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُونُوا رَبَّانِيِّينَ سورة آل عمران آية 79، قَالَ: "عُلَمَاءُ فُقَهَاءُ".
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے «كونوا ربانيين» (تم سب رب کے ہو جاؤ) کے بارے میں کہا «ربانيين» سے مراد علماء و فقہاء ہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 339]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إلى قوله عليه الصلاة والسلام علماء فقهاء رجاله ثقات غير أن أبا إسحاق إبراهيم بن محمد ابن الحارث ليس مذكورا فيمن سمعوا من عطاء قبل اختلاطه. وإلى قوله عليه الصلاة والسلام " والنشر " اسناده صحيح. وإلى نهاية الحديث الشريف " أخشعهم لله عز وجل " إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 340] »
اس روایت کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [تفسير طبري 327/3] ، [شعب الإيمان 1856] و [الفقيه والمتفقه 51/1]
اس روایت کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [تفسير طبري 327/3] ، [شعب الإيمان 1856] و [الفقيه والمتفقه 51/1]
حدیث نمبر: 340
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: "يُرَادُ لِلْعِلْمِ الْحِفْظُ، وَالْعَمَلُ، وَالِاسْتِمَاعُ، وَالْإِنْصَاتُ، وَالنَّشْرُ".
عبیدالله بن سعید نے کہا: میں نے سفیان بن عیینہ کو کہتے ہوئے سنا: علم سے مراد حفظ، عمل، استماع، خاموشی اور تبلیغ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 340]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 341] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [شعب الإيمان 1797] ، [الحلية 274/7] ، [الإلماع ص: 221] ، [جامع بيان العلم 760، 761]
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [شعب الإيمان 1797] ، [الحلية 274/7] ، [الإلماع ص: 221] ، [جامع بيان العلم 760، 761]
وضاحت: (تشریح احادیث 333 سے 340)
یعنی جو علم حاصل کرے اسے حفظ کر لے، اس پر عمل پیرا ہو، خاموشی سے سنے پھر اس کو دوسروں تک پہنچائے، تب عالم کہلائے گا ورنہ نہیں۔
یعنی جو علم حاصل کرے اسے حفظ کر لے، اس پر عمل پیرا ہو، خاموشی سے سنے پھر اس کو دوسروں تک پہنچائے، تب عالم کہلائے گا ورنہ نہیں۔
حدیث نمبر: 341
قَالَ: وأَخْبَرَنِي أحمد بن مُحَمَّدٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: "أَجْهَلُ النَّاسِ مَنْ تَرَكَ مَا يَعْلَمُ، وَأَعْلَمُ النَّاسِ مَنْ عَمِلَ بِمَا يَعْلَمُ، وَأَفْضَلُ النَّاسِ أَخْشَعَهُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑا جاہل وہ ہے جو علم ہوتے ہوئے اسے چھوڑ دے (یعنی نہ عمل کرے نہ تبلیغ) اور سب سے بڑا عالم وہ ہے جو علم کے مطابق عمل کرے، اور لوگوں میں سب سے زیادہ اچھا وہ ہے جو الله عزوجل سے سب سے زیادہ خشیت والا ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 341]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 342] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن دوسری جگہ نہیں مل سکی۔
اس اثر کی سند صحیح ہے، لیکن دوسری جگہ نہیں مل سکی۔
وضاحت: (تشریح حدیث 340)
اس قول میں «﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ﴾» کی تفسیر ہے۔
اس قول میں «﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ﴾» کی تفسیر ہے۔
حدیث نمبر: 342
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ مِنْهُ، وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا، فَمَنْ تَكُنِ الْآخِرَةُ هَمَّهُ، وَبَثَّهُ، وَسَدَمَهُ، يَكْفِي اللَّهُ ضَيْعَتَهُ، وَيَجْعَلُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَمَنْ تَكُنِ الدُّنْيَا هَمَّهُ، وَبَثَّهُ، وَسَدَمَهُ، يُفْشِي اللَّهُ عَلَيْهِ ضَيْعَتَهُ، وَيَجْعَلُ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، ثُمَّ لَا يُصْبِحُ إِلَّا فَقِيرًا، وَلَا يُمْسِي إِلَّا فَقِيرًا".
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: دو حرص کرنے والے کبھی اکتاتے نہیں، ایک تو علم کا حریص جو علم سے کبھی اکتاتا نہیں، دوسرا دنیا کی چاہت رکھنے والا جو دنیا سے نہیں اکتاتا، پس جس آدمی کا ہم و ارادہ، اوڑھنا بچھونا اور چاہت و ذکر سب کچھ آخرت ہی ہو، اللہ اس کے ہر کام و کاروبار میں کافی ہو گا، اور اس کا غنیٰ اس کے دل میں ڈال دے گا، اور جس کا ہم و چاہت و محبت دنیا ہو اللہ اس کے کاروبار کو منتشر کر دے گا، اور اس کی غریبی و محتاجی کو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دے گا، پھر وہ صبح بھی فقیر ہو گا اور شام کو بھی فقیر ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 342]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 343] »
اس روایت کی سند حسن بصری تک صحیح ہے۔ نیز ابن عدی نے اس مرسل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موصولاً روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [الكامل 2298/6] ، نیز اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
اس روایت کی سند حسن بصری تک صحیح ہے۔ نیز ابن عدی نے اس مرسل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے موصولاً روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [الكامل 2298/6] ، نیز اگلی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
حدیث نمبر: 343
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: صَاحِبُ الْعِلْمِ، وَصَاحِبُ الدُّنْيَا، وَلَا يَسْتَوِيَانِ، أَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ، فَيَزْدَادُ رِضًى لِلرَّحْمَنِ، وَأَمَّا صَاحِبُ الدُّنْيَا، فَيَتَمَادَى فِي الطُّغْيَانِ"، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: كَلَّا إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى {6} أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى {7} سورة العلق آية 6-7، قَالَ: وَقَالَ الْآخَرُ: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورة فاطر آية 28.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو حریص آدمی کبھی اکتاتے نہیں، ایک صاحب علم، دوسرا طالب دنیا اور دونوں برابر نہیں ہو سکتے، صاحب علم اللہ کی خوشنودی میں اضافہ کرتا ہے اور صاحب دنیا سرکشی و طغیانی میں پڑا ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: « ﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى ٭ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى﴾ » [العلق: 6/96، 7] سچ مچ انسان تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے، وہ اس لئے کہ وہ اپنے آپ کو بےپروا (یا تونگر) سمجھتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کسی اور نے کہا: « ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ...﴾ » [فاطر: 28/35] ”بیشک الله تعالیٰ سے اس کے عالم بندے ہی ڈرتے ہیں۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 343]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع: عون بن عبد الله بن عتبة أرسل عن ابن مسعود وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 344] »
اس اثر کی سند منقطع ہے، اور [معجم طبراني 223/10، 10388] میں موصولاً مذکور ہے۔ لیکن وہ بھی سنداً ضعیف ہے۔ [معجم طبراني 76/11-77، 11095] میں ایک اور شاہد ہے لیکن وہ بھی ضعیف ہے، لیکن دوسرے شواہد بھی ہیں۔ دیکھئے: [حديث ابن عباس رقم 346] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6169] ، [جامع بيان العلم 583] ، [العلم لأبي خيثمه 141] ، [المقاصد 1206] وغيرها۔
اس اثر کی سند منقطع ہے، اور [معجم طبراني 223/10، 10388] میں موصولاً مذکور ہے۔ لیکن وہ بھی سنداً ضعیف ہے۔ [معجم طبراني 76/11-77، 11095] میں ایک اور شاہد ہے لیکن وہ بھی ضعیف ہے، لیکن دوسرے شواہد بھی ہیں۔ دیکھئے: [حديث ابن عباس رقم 346] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6169] ، [جامع بيان العلم 583] ، [العلم لأبي خيثمه 141] ، [المقاصد 1206] وغيرها۔
حدیث نمبر: 344
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ سورة فاطر آية 28، قَالَ: "مَنْ خَشِيَ اللَّهَ فَهُوَ عَالِمٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: « ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ﴾ » [فاطر: 28/35] جو اللہ سے ڈرے وہ عالم ہے۔ دو حریص آدمی کبھی آسودہ نہیں ہو سکتے، طالب علم اور طالب دنیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 344]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناد هذا الأثر علتان: ضعف محمد بن حميد واضطراب رواية سماك عن عكرمة، [مكتبه الشامله نمبر: 345] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن معنی بالکل صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 132/22] ، [الدر المنثور 250/5] جس میں اس کے بہت سے شواہد مذکور ہیں۔ نیز دیکھئے: [جامع بيان العلم 1195، 1544، 1545]
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن معنی بالکل صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير طبري 132/22] ، [الدر المنثور 250/5] جس میں اس کے بہت سے شواہد مذکور ہیں۔ نیز دیکھئے: [جامع بيان العلم 1195، 1544، 1545]
حدیث نمبر: 345
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَال: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ: طَالِبُ عِلْمٍ، وَطَالِبُ دُنْيَا".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: دو مشتاق (حریص) آدمی کبھی اکتاتے نہیں، طالب علم اور طالب دنیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 345]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 346] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، اس کی تخریج اثر رقم (344) میں گزر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6169] ، [جامع بيان العلم 583] ، [العلم 141]
اس اثر کی سند ضعیف ہے، اس کی تخریج اثر رقم (344) میں گزر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6169] ، [جامع بيان العلم 583] ، [العلم 141]
حدیث نمبر: 346
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ فَأَدْرَكَهُ، كَانَ لَهُ كِفْلَانِ مِنْ الْأَجْرِ، فَإِنْ لَمْ يُدْرِكْهُ، كَانَ لَهُ كِفْلٌ مِنْ الْأَجْرِ".
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے علم طلب کیا اور اسے حاصل بھی کر لیا، تو اس کے لئے دو گنا اجر ہے، اور اگر علم حاصل نہ کر سکا تو بھی اس کے لئے ایک حصہ اجر ہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «يزيد بن ربيعة الصنعاني قال أبو حاتم: منكر الحديث واهي الحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 347] »
اس حدیث کی سند میں یزید بن ربیعہ متروک و منکر الحدیث ہیں، گرچہ یہ روایت [معجم الطبراني: 68/22، 165] ، [جامع بيان العلم 213] ، [الفقيه 85/2] ، [مسند الشهاب 481] ، [فوائد تمام 1513] وغیرہ میں موجود ہے، لیکن سب کے طرق ضعیف ہیں۔
اس حدیث کی سند میں یزید بن ربیعہ متروک و منکر الحدیث ہیں، گرچہ یہ روایت [معجم الطبراني: 68/22، 165] ، [جامع بيان العلم 213] ، [الفقيه 85/2] ، [مسند الشهاب 481] ، [فوائد تمام 1513] وغیرہ میں موجود ہے، لیکن سب کے طرق ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 347
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْعَمِّيِّ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، أَنْتَ رَبِّي تَعَالَيْتَ فَوْقَ عَرْشِكَ، وَجَعَلْتَ خَشْيَتَكَ عَلَى مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، فَأَقْرَبُ خَلْقِكَ مِنْكَ مَنْزِلَةً أَشَدُّهُمْ لَكَ خَشْيَةً، وَمَا عِلْمُ مَنْ لَمْ يَخْشَكَ؟ وَمَا حِكْمَةُ مَنْ لَمْ يُطِعْ أَمْرَكَ؟!".
عباس العمي نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ نبی داؤد علیہ السلام اپنی دعا میں کہا کرتے تھے: اے اللہ! تو پاک ہے (ہر عیب سے)، تو میرا رب ہے، عرش کے اوپر جلوہ افروز ہے، اور تو نے اپنی خشیت ان لوگوں میں پیدا کر دی ہے جو زمین و آسمان میں ہیں، پس مقام و مرتبے میں تیری مخلوق میں تیرے قریب ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ تیری خشیت و خوف والا ہے، اور وہ علم ہی کیا جو تجھ سے نہ ڈرے، اور وہ حکمت کیسی جو تیرے حکم کی پیروی نہ کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «عباس العمي مجهول وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 348] »
اس روایت کی سند میں عباس العمي مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 9430] ، [الدر المنثور 250/5]
اس روایت کی سند میں عباس العمي مجہول ہیں، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 9430] ، [الدر المنثور 250/5]
حدیث نمبر: 348
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ هُوَ ابْنُ أَبِي مُطِيعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْهَزْهَازِ يُحَدِّثُ، عَنْ الضَّحَّاكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "اغْدُ عَالِمًا، أَوْ مُتَعَلِّمًا، وَلَا خَيْرَ فِيمَا سِوَاهُمَا".
ضحاک رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تو عالم بنو یا متعلم، اور ان دونوں کے علاوہ کسی میں خیر نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 348]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع لم يسمع الضحاك بن مزاحم من ابن مسعود ورجاله ثقات: أبو الهزهاز هو نصر بن زياد العجلي، [مكتبه الشامله نمبر: 349] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، ضحاک بن مزاحم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، باقی رجال ثقات ہیں، اور یہ اثر شاہد کی بنا پر صحیح ہے جو رقم (254) میں گزر چکا ہے۔
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، ضحاک بن مزاحم نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا، باقی رجال ثقات ہیں، اور یہ اثر شاہد کی بنا پر صحیح ہے جو رقم (254) میں گزر چکا ہے۔