🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب في فَضْلِ الْعِلْمِ وَالْعَالِمِ:
علم اور عالم کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ هُوَ الْقُمِّيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا رَأَى طَلَبَةَ الْعِلْمِ، قَالَ: "مَرْحَبًا بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِكُمْ".
عامر بن ابراہیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب طلاب العلم کو دیکھتے تو فرماتے «مرحبا بطلبة العلم» طلاب العلم کو مرحبا (خوش آمدید) کہتے اور فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے بارے میں وصیت کی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 360] »
یہ روایت معضل ہے، اور اس کے دو شاہد ہیں۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 20] و [شعب الايمان 1729] اس لئے قابل حجت ہوسکتی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 360
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: "كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ، وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ، أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ وَالْعِلْمَ، وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ، فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ.
سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد میں دو حلقوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: دونوں ہی خیر پر ہیں لیکن ایک مجلس دوسری مجلس سے افضل ہے، ایک مجلس کے لوگ اللہ تعالیٰ سے دعائیں اور التجائیں کر رہے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو عطاء فرما دے اور چاہے تو محروم رکھے، دوسری مجلس کے لوگ علم و فقہ سیکھ رہے ہیں اور جاہل کو سکھا رہے ہیں، اس لئے یہ افضل ہیں، اور میں بھی تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ راوی نے کہا پھر آپ بھی ان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 360]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده ضعيفان: عبد الرحمن بن زياد وعبد الرحمن بن رافع، [مكتبه الشامله نمبر: 361] »
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمٰن بن زیاد اور عبدالرحمٰن بن رافع ضعیف ہیں، اس روایت کو ابن المبارک نے [ الزهد 1389] میں اور انہیں کے طریق سے طیالسی نے [المسند 82] میں اور خطیب نے [الفقيه والمتفقه 10/1] میں ذکر کیا ہے، ابن ماجہ نے بھی [سنن 229] میں اس کو ذکر کیا ہے، لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 361
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ: "يَا بُنَيَّ، إِنَّ الْعِلْمَ خَيْرٌ مِنْ الْعَمَلِ".
مطرف بن عبداللہ الشخیر نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹے! علم عمل سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 361]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والانقطاع عون بن عبد الله لا نعلم له رواية عن مطرف، [مكتبه الشامله نمبر: 362] »
عبدالرحمٰن بن عبدالله المسعودی اس روایت میں ضعیف ہیں، اور عون کا لقاء مطرف سے ثابت نہیں، لیکن [حلية الأولياء 209/2] میں اس کا صحیح شاہد موجود ہے، جس سے مطرف کے اس کلام کو تقویت ملتی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 355 سے 361)
یعنی عمل و عبادت اگر علم و بصیرت کے ساتھ ہو تو اس میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 362
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: "لَيْسَ هَدِيَّةٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ حِكْمَةٍ، تُهْدِيهَا لِأَخِيكَ".
شرحبیل بن شریک نے ابوعبدالرحمٰن حبلی کو کہتے ہوئے سنا: تم اپنے بھائی کو حکمت کی بات کا جو ہدیہ دیتے ہو اس سے بہتر کوئی ہدیہ نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 362]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 363] »
اس قول کی سند صحیح ہے لیکن کہیں اور نہ مل سکی، نیز اس کے شواہد ملتے ہیں لیکن وہ بھی ضعف سے خالی نہیں۔ دیکھئے: [شعب الايمان 1764] ، [جامع بيان العلم 323] ، [المقاصد الحسنة 938] ، [كشف الخفاء 2182] ، [معجم الطبراني الكبير 43/12، 12420]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 363
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْمُجْتَهِدِ مِئَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ، حُضْرِ الْفَرَسِ الْمُضَمَّرِ السَّرِيعِ".
امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: عالم کی مجتہد پر فضیلت سو درجہ زیادہ ہے، اور ہر دو درجوں کے درمیان تیز دوڑنے والے مضمّر گھوڑوں کی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ (مضمّر وہ گھوڑا جس کو (ریسں) دوڑ کے لئے تیار کیا جائے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 363]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى الزهري ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 364] »
یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جو سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ [حلية الأولياء 365/3] میں مذکور ہے لیکن اس کی سند بھی کمزور ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 364
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ سورة المجادلة آية 11، قَالَ: "يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا بِدَرَجَاتٍ".
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: « ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ....﴾ » [المجادلة: 11/58] سے مراد وہ اہل علم ہیں جن کے درجات اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر بلند فرمائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 364]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 365] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المستدرك 481/2 وقال الحاكم: هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 365
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ، فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ".
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی موت اس حال میں آئے کہ وہ احیائے اسلام کے لئے علم کی تلاش میں ہو تو انبیاء اور اس کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 365]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده مسلسل بالمجاهيل، [مكتبه الشامله نمبر: 366] »
حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف منسوب اس قول میں کئی راوی مجہول ہیں، اور دیگر کتب میں بھی یہ اثر منقول ہے، لیکن سب کے طرق ضعیف ہیں۔ دیکھے: [المعجم الأوسط 9450] ، [تاريخ بغداد 78/3] و [مجمع الزوائد 511]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 366
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: "ذَهَبَ عُمَرُ بِثُلُثَيْ الْعِلْمِ"، فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ:"ذَهَبَ عُمَرُ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ".
عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ علم کے دو ثلث لے گئے، عمرو نے کہا یہ بات ابراہیم نخعی سے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ علم کے دس میں سے نو حصے لے گئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: ضعف محمد بن حميد وأبو سنان سعيد بن سنان متأخر السماع من أبي إسحاق السبيعي، [مكتبه الشامله نمبر: 367] »
اس روایت میں محمد بن حمید ضعیف اور ابوسنان سعید بن سنان کا ابواسحاق سبیعی سے سماع مؤخر ہے، اور اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی محدث نے ذکر نہیں کیا، البتہ ابراہیم نخعی کا قول ابوخیثمہ کی کتاب [العلم 61] میں مذکور ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 367
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ، يَتَذَاكَرُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا أَظَلَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي بِهِ الْعِلْمَ، سَهَّلَ اللَّهُ طَرِيقَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوں، اللہ کی کتاب پڑھیں (دہرائیں) اور دوسروں کو پڑھائیں تو فرشتے ان کو اپنے پروں کے سایہ میں لے لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ جائیں۔ اور جو شخص علم حاصل کرنے کی راہ چلے، الله تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ سہل کر دے گا، اور جس کا عمل کوتاہی کرے تو اس کا نسب (خاندان) کچھ کام نہ آوے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 367]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 368] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 2699] ، [ابوداؤد 1455] ، [ترمذي 2945] ، [شعب الإيمان 671] ۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (357)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 368
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زرٍّ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟، قُلْتُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟، قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، رِضًا بِمَا يَطْلُبُ".
ذِرّ سے مروی ہے کہ میں صفوان بن عسال مرادی کے پاس گیا (کیونکہ) میں ان سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، انہوں نے فرمایا: تمہیں میرے پاس کیا چیز لائی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے عرض کیا: ضرور سنایئے، تو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک فرشتے علم طلب کرنے والے کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، جو وہ طلب کر رہا ہے اس سے پسندیدگی کے طور پر۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 369] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1319] ، [مسند الحميدي 906] ، [العلم لأبي خيثمه 5]
وضاحت: (تشریح احادیث 361 سے 368)
ان تمام روایات سے علم حاصل کرنے کی ترغیب اور عالمِ دین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں