🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

38. باب الْحَدِيثِ عَنِ الثِّقَاتِ:
صرف ثقہ راویوں سے حدیث روایت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 438
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ، أَوْ لَابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ"إِنَّ هَذَا الْعِلْمَ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ دِينَكُمْ".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ علم (علم اسناد الحديث) دین ہے، تو تم دیکھو کیسے آدمی سے اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 438] »
یہ اثر صحیح ہے۔ اس کی تخریج بھی اثر رقم (399، 433) میں گذر چکی ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: "فَإِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ".
سلیمان بن موسیٰ نے کہا: میں نے امام طاؤوس رحمہ اللہ سے کہا کہ فلاں آدمی نے اس طرح سے حدیث بیان کی، انہوں نے فرمایا: اگر تمہارا یہ حدیث بیان کرنے والا غنی ہے تو اس سے روایت لے لو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 439] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھے رقم (428)۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 440
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَعِدْ عَلَيَّ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ، قَالَ لَهُ بُشَيْرٌ: مَا أَدْرِي عَرَفْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَأَنْكَرْتَ هَذَا، أَوْ عَرَفْتَ هَذَا وَأَنْكَرْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ؟، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "إِنَّا كُنَّا نُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ لَمْ يَكُنْ يُكْذَبُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَة وَالذَّلُولَ تَرَكْنَا الْحَدِيثَ عَنْهُ".
امام طاؤوس رحمہ اللہ نے کہا: بشیر بن کعب سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور حدیث بیان کرنے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پہلی حدیث مجھے دوبارہ سناؤ، بشیر نے ان سے کہا: پتہ نہیں آپ نے میری تمام احادیث کو صحیح جانا اور پہلی حدیث پر انکار کیا، یا اس پہلی حدیث کو صحیح سمجھا اور باقی کو صحیح نہیں جانا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس وقت حدیث بیان کرتے تھے جس وقت آپ پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا، پھر جب لوگ نرم و گرم میں پڑ گئے (یعنی جھوٹ سچ میں) تو ہم نے آپ سے روایت حدیث ترک کر دی۔ (یعنی جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا شروع کر دیا تو ہم احتیاط کرنے لگے اور کہنے والے کے بارے میں چھان بین ہونے لگی)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 440]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 440] »
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: مقدمہ [صحيح مسلم 12/1] ، [تاريخ أبى زرعة 1486] ، [الكامل لابن عدي 61/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 441
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَكِبْتُمْ الصَّعْبَة وَالذَّلُولَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم حدیث یاد کرتے تھے تا آنکہ تم نے اس میں ملاوٹ کر دی، اور حدیث تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کی جاتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 441]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 441] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: مقدمہ [مسلم 13/1] و [الكامل لابن عدي 62/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "يُوشِكُ أَنْ يَظْهَرَ شَيَاطِينُ قَدْ أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلامُ يُفَقِّهُونَ النَّاسَ فِي الدِّينِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: قریب ہے کہ شیاطین ظہور پذیر ہوں، جنہیں سلیمان علیہ السلام نے باندھ رکھا تھا، جو لوگوں کو دین کی سمجھ اور فقہ سکھائیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبي سليم. وهو موقوف، [مكتبه الشامله نمبر: 442] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: مقدمہ [صحيح مسلم 7/1] ، [الكامل لابن عدي 59/1] ، [اللآلي المصنوعة 250/1] ، [الفقيه 153/2] ، [مصنف عبدالرزاق 20807]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 443
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: "انْظُرُوا عَمَّنْ تَأْخُذُونَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّهُ دِينُكُمْ".
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے فرمایا: خیال رکھو کہ تم یہ حدیث کس سے یا کیسے آدمی سے لے رہے ہو، کیونکہ یہی تمہارا دین ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 443] »
اس قول کی سند صحیح ہے، جیسا کہ گزر چکا ہے۔ دیکھئے اثر رقم (398، 433)۔
وضاحت: (تشریح احادیث 432 سے 443)
ان تمام آثار سے معلوم ہوا کہ علم الحدیث والاسانید اصل دین ہے جس کا اہتمام ضروری ہے۔
اور محدّثین کرام رحمہم اللہ روایتِ حدیث میں بہت باریک بینی اور احتیاط سے کام لیتے ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں