سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب مُذَاكَرَةِ الْعِلْمِ:
علمی گفتگو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 625
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ ذِكْرَهُ حَيَاتُهُ".
ابراہیم سے مروی ہے علقمہ نے کہا: حدیث کا مذاکره کرو، اس کا یاد کرنا ہی اس کی زندگی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 627] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 1884] ، [العلم 71] ، [المحدث الفاصل 725] ، [حلية الأولياء 101/2] و [جامع بيان العلم 627]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 1884] ، [العلم 71] ، [المحدث الفاصل 725] ، [حلية الأولياء 101/2] و [جامع بيان العلم 627]
حدیث نمبر: 626
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: "كَانَ ابْنُ شِهَابٍ يُحَدِّثُ الْأَعْرَابَ".
سفیان بن عیینہ سے مروی ہے زیاد بن سعد نے کہا: ابن شہاب الزہری دیہاتیوں کو بھی حدیث سنایا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 628] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 1888]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 1888]
وضاحت: (تشریح احادیث 620 سے 626)
یہ بھی مذاکرۂ حدیث کا ایک طریقہ ہے۔
یہ بھی مذاکرۂ حدیث کا ایک طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 627
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "كَانَ إِسْمَاعِيل بْنُ رَجَاءٍ يَجْمَعُ صِبْيَانَ الْكُتَّابِ يُحَدِّثُهُمْ يَتَحَفَّظُ بِذَاكَ".
اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا: اسماعیل بن رجاء منشیوں کے بچوں کو جمع کر کے انہیں حدیث سنایا کرتے تھے، وہ اسی طرح یاد کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 629] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 712] ، [الجامع لأخلاق الراوي 680] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6187، ومن طريقه أخرجه ابن عبدالبر فى جامع بيان العلم 729، 738] و [العلم لأبي خيثمه 73]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 712] ، [الجامع لأخلاق الراوي 680] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6187، ومن طريقه أخرجه ابن عبدالبر فى جامع بيان العلم 729، 738] و [العلم لأبي خيثمه 73]
حدیث نمبر: 628
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "حَدِّثْ حَدِيثَكَ مَنْ يَشْتَهِيهِ، وَمَنْ لَا يَشْتَهِيهِ، فَإِنَّهُ يَصِيرُ عِنْدَكَ كَأَنَّهُ إِمَامٌ تَقْرَؤُهُ".
ابوعبدالله الشقری سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اپنی حدیث ہر کسی کو سناؤ چاہے وہ اس کو سننے کی خواہش رکھے یا نہ رکھے، اس لئے کہ وہی تمہارے لئے اصل ہو جائیں گے گو کہ تم اصل کو دیکھ کر پڑھ رہے ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 630] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل اور ابوعبدالله الشقری کا نام سلمہ بن تمام ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6188] ، [الجامع لأخلاق الراوي 1885، 1886] ، [جامع بيان العلم وفضله 630]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل اور ابوعبدالله الشقری کا نام سلمہ بن تمام ہے۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6188] ، [الجامع لأخلاق الراوي 1885، 1886] ، [جامع بيان العلم وفضله 630]
حدیث نمبر: 629
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا سَمِعْتُمْ مِنَّا حَدِيثًا، فَتَذَاكَرُوهُ بَيْنَكُمْ".
عطاء (ابن ابی رباح) سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم ہم سے کوئی حدیث سنو تو آپس میں اس کا مذاکرہ کر لیا کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حجاج بن أرطاة ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 631] »
اس روایت میں حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ابومعمر کا نام اسماعیل بن ابراہیم بن معمر ہے اور عبدالسلام: ابن حرب ہیں۔ تخریج دیکھئے: [الجامع 469] و [المحدث الفاصل 728]
اس روایت میں حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، ابومعمر کا نام اسماعیل بن ابراہیم بن معمر ہے اور عبدالسلام: ابن حرب ہیں۔ تخریج دیکھئے: [الجامع 469] و [المحدث الفاصل 728]
حدیث نمبر: 630
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي الْحَسَنَ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، تَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا".
ہشیم نے کہا: یونس بن عبید نے خبر دی کہ ہم حسن رحمہ اللہ کے پاس جاتے تھے اور جب ان کے پاس سے لوٹتے تو آپس میں مذاکرہ کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 632] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
حدیث نمبر: 631
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَرْوِيَ حَدِيثًا، فَلْيُرَدِّدْهُ ثَلَاثًا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی حدیث بیان کرنا چاہے تو اس حدیث کو تین بار دہرا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 633] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 640]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 640]
حدیث نمبر: 632
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: "إِحْيَاءُ الْحَدِيثِ مُذَاكَرَتُهُ"، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ:"يَرْحَمُكَ اللَّهُ، كَمْ مِنْ حَدِيثٍ أَحْيَيْتَهُ فِي صَدْرِي كَانَ قَدْ مَاتَ".
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے کہا: حدیث کو زندہ رکھنے کا طریقہ اس کا مذاکرہ کرنا ہے، عبداللہ بن شداد نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، کتنی احادیث ہیں جو مٹ گئی تھیں، آپ نے انہیں میرے دل میں زندہ کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، [مكتبه الشامله نمبر: 634] »
یہ روایت یزید بن ابی زیادہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الجامع 472، 1895] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6189] ، [جامع بيان العلم 631، 707] ، [ العلم 72] ۔ نیز دیکھئے اثر رقم (626)۔
یہ روایت یزید بن ابی زیادہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [الجامع 472، 1895] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6189] ، [جامع بيان العلم 631، 707] ، [ العلم 72] ۔ نیز دیکھئے اثر رقم (626)۔
حدیث نمبر: 633
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "كَانَ الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْعُكْلِيُّ، وَابْنُ شُبْرُمَةَ، وَالْقَعْقَاعُ بْنُ يَزِيدَ، وَمُغِيرَةُ إِذَا صَلَّوْا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، جَلَسُوا فِي الْفِقْهِ، فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَهُمْ إِلَّا أَذَانُ الصُّبْحِ".
محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان کے والد نے کہا: حارث بن یزید عکلی، ابن شبرمہ اور قعقاع بن یزید و مغیرہ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے، فقہ (کے مذاکرے) میں بیٹھ جاتے، اور پھر صبح کی اذان ہی انہیں جدا کرتی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 635] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 108] ، [المعرفة للفسوي 614/2] ، [الفقيه والمتفقه 956، 957] ۔ نیز اثر رقم (642)۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 108] ، [المعرفة للفسوي 614/2] ، [الفقيه والمتفقه 956، 957] ۔ نیز اثر رقم (642)۔
حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: سَمِعْتُ شَرِيكًا ذَكَرَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، قَالَ: عَنْ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ "لَا بَأْسَ بِالسَّمَرِ فِي الْفِقْهِ".
مالک بن اسماعیل نے خبر دی کہ میں نے شریک کو کہتے سنا، انہوں نے لیث کے طریق سے کہا، عطاء و طاؤوس و مجاہد میں سے دو نے کہا: فقہی امور میں رات جاگنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 634]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 636] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔