سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب مُذَاكَرَةِ الْعِلْمِ:
علمی گفتگو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 635
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ بِالسَّمَرِ فِي الْفِقْهِ".
لیث سے مروی ہے مجاہد نے کہا: فقہی مذاکرہ میں جاگنے سے کوئی حرج نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 637] »
اس روایت کی سند میں بھی لیث بن ابی سلیم ہیں جن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 110] ، [الفقيه و المتفقه 955]
اس روایت کی سند میں بھی لیث بن ابی سلیم ہیں جن کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 110] ، [الفقيه و المتفقه 955]
حدیث نمبر: 636
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنْ اللَّيْلِ، خَيْرٌ مِنْ إِحْيَائِهَا".
ابن جریج سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک گھڑی مل جل کر پڑھنا پوری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ابن جريج لم يدرك ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 638] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ ابن حجر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پایا ہی نہیں۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 20469] ، [جامع بيان العلم 107] ، نیز یہ روایت (270) میں گزر چکی ہے۔
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ ابن حجر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پایا ہی نہیں۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 20469] ، [جامع بيان العلم 107] ، نیز یہ روایت (270) میں گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 637
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ تَذَاكَرْنَا، فَكَانَ أَبُو الزُّبَيْرِ أَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ".
عطاء نے کہا: ہم سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما کے پاس جاتے تھے، اور جب ان کے پاس سے واپس آتے تو آپس میں مذاکرہ کرتے، نیز ابوالزبیر ہم میں سب سے زیادہ حافظ حدیث تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 637]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أبي أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 639] »
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ [العلم 79] و [الجامع 471] میں بھی یہ روایت موجود ہے، لیکن سند سب کی ضعیف ہے۔
حجاج بن ارطاة کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔ [العلم 79] و [الجامع 471] میں بھی یہ روایت موجود ہے، لیکن سند سب کی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 638
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: "تَذَاكَرَ ابْنُ شِهَابٍ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ حَدِيثًا وَهُوَ جَالِسٌ مُتَوَضِّئًا، قَالَ: فَمَا زَالَ ذَلِكَ مَجْلِسَهُ حَتَّى أَصْبَحَ"، قَالَ مَرْوَانُ:"جَعَلَ يَتَذَاكَرُ الْحَدِيثَ".
مروان بن محمد نے خبر دی کہ میں نے لیث بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا: ابن شہاب (زہری) ایک رات عشاء کے بعد بیٹھے وضو کر رہے تھے کہ حدیث یاد کرنے لگے، پھر بیٹھے یاد ہی کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ مروان نے کہا: حدیث کا مذاکرہ کرتے رہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 638]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 640] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ ابن عساكر 95، 96] زہری میں دیکھئے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ ابن عساكر 95، 96] زہری میں دیکھئے۔
حدیث نمبر: 639
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "كُنْتُ إِذَا لَقِيتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَكَأَنَّمَا أَفْجُرُ بِهِ بَحْرًا".
محمد بن اسحاق سے مروی ہے، زہری نے کہا: میں جب عبیداللہ بن عتبہ سے ملاقات کرتا تو ایسا لگتا کہ گویا میں نے سمندر کو چیر دیا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 639]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 641] »
اس روایت کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبى شيبه 6108، 15783] ، [المعرفة والتاريخ 561/1، 552، 622] و [تاريخ دمشق 227]
اس روایت کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبى شيبه 6108، 15783] ، [المعرفة والتاريخ 561/1، 552، 622] و [تاريخ دمشق 227]
حدیث نمبر: 640
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "كَانَ الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ وَأَصْحَابُهُ يَتَجَالَسُونَ بِاللَّيْلِ، وَيَذْكُرُونَ الْفِقْهَ".
عثمان بن عبداللہ نے کہا: حارث عکلی اور ان کے ساتھی رات میں بیٹھ کر فقہی مسائل یاد کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 640]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 642] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور رقم (633) میں گذر چکی ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے، اور رقم (633) میں گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 641
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، رَوَى عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ حَيَاتَهُ مُذَاكَرَتُهُ".
ابوالأحوص سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث یاد کرو، کیونکہ اس کی زندگی اس کا یاد کرنا یا مذاکرہ کرنا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي إسرائيل وهو: إسماعيل بن خليفة لكن الأثر صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 643] »
اس اثر کی سند ابواسرائیل اسماعیل بن خلیفہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 726] لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے اثر رقم (617، 626، 627)۔
اس اثر کی سند ابواسرائیل اسماعیل بن خلیفہ کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 726] لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے اثر رقم (617، 626، 627)۔
حدیث نمبر: 642
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ: هَلْ تَجَالَسُونَ؟، قَالُوا: لَيْسَ نُتْرَكُ ذَاكَ، قَالَ: فَهَلْ تَزَاوَرُونَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ، فَيَمْشِي فِي طَلَبِهِ إِلَى أَقْصَى الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ، قَالَ: "فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ".
عون بن عبداللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے کہا: کیا تم مجلس جماتے ہو؟ جواب دیا: اسے تو ہم چھوڑتے ہی نہیں، فرمایا: کیا تم ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہو؟ جواب دیا: جی ہاں اے ابوعبدالرحمٰن! ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنے ساتھی کو نہ دیکھے تو کوفے کے آخری کنارے تک اس کو دیکھنے جاتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جب تک ایسا کرتے رہو گے خیر سے رہو گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والإنقطاع، [مكتبه الشامله نمبر: 644] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 8979]
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [المعجم الكبير 8979]
حدیث نمبر: 643
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَتَرْكُ الْمُذَاكَرَةِ".
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی آفت نسیان اور ترک مذاکرہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 643]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف الوليد هو: ابن مسلم مدلس وقد عنعن، [مكتبه الشامله نمبر: 645] »
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تاريخ دمشق 235]
اس قول کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [تاريخ دمشق 235]
حدیث نمبر: 644
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "آفَةُ الْحَدِيثِ النِّسْيَانُ".
قاسم بن عبدالرحمٰن مسعودی سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث کی آفت نسیان ہے (یعنی بھلا دینا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 644]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه القاسم بن عبد الرحمن المسعودي لم يسمع عبد الله بن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 646] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ ابوعمیس کا نام عتبہ بن عبداللہ بن عتبہ ہے۔ تخریج دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6191] ، [جامع بيان العلم 691] اس کے دیگر اسانید سے شواہد موجود ہیں «كما سيأتي» ۔
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ ابوعمیس کا نام عتبہ بن عبداللہ بن عتبہ ہے۔ تخریج دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6191] ، [جامع بيان العلم 691] اس کے دیگر اسانید سے شواہد موجود ہیں «كما سيأتي» ۔