سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب مُذَاكَرَةِ الْعِلْمِ:
علمی گفتگو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 645
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ آفَةً، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
حکیم بن جابر سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر چیز کی ایک آفت ہوتی ہے، علم کی آفت نسیان ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 647] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
حدیث نمبر: 646
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَإِضَاعَتُهُ أَنْ تُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَ أَهْلِهِ".
اعمش سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم کی آفت نسیان ہے، اور اس کا ضیاع یہ ہے کہ تم نااہل کو اس کی تعلیم دو۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 648] »
اس حدیث کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل، ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6190] ، [جامع بيان العلم 690] ، [المحدث الفاصل 793]
اس حدیث کی سند سے دو راوی ساقط ہیں، لہٰذا یہ روایت معضل، ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6190] ، [جامع بيان العلم 690] ، [المحدث الفاصل 793]
حدیث نمبر: 647
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "غَائِلَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
ابوحمزه التمار سے مروی ہے، حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی برائی نسیان ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأثر صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 649] »
اس روایت میں ابوحمزہ کو شیخ کہا گیا ہے، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 689] اس کے شواہد صحیحہ موجود ہیں لہٰذا صحیح ہے۔
اس روایت میں ابوحمزہ کو شیخ کہا گیا ہے، باقی رجال ثقات ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 689] اس کے شواہد صحیحہ موجود ہیں لہٰذا صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 648
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، وَتَزَاوَرُوا، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا يَدْرُسْ".
ابن بريدة سے مروی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس (علم) حدیث کو یاد کرو (دہراؤ)، ایک دوسرے کی زیارت کرو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو یہ (علم) مٹ جائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 648]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 650] »
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6185] ، [جامع بيان العلم وفضله 624] ، [المحدث الفاصل 721] و [الجامع لأخلاق الراوي 468،467]
اس اثر کی سند صحیح ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6185] ، [جامع بيان العلم وفضله 624] ، [المحدث الفاصل 721] و [الجامع لأخلاق الراوي 468،467]
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: "كُنْتُ أَحْسَبُ بِأَنِّي أَصَبْتُ مِنْ الْعِلْمِ، فَجَالَسْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، فَكَأَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ".
سفیان رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں سمجھتا تھا کہ میں نے علم کی تکمیل کر لی، لیکن جب عبیداللہ (بن عبدالله بن مسعود) کی مجالست اختیار کی تو لگا کہ میں تو علم کی بہت ساری گھاٹی یا وادیوں میں سے صرف ایک وادی میں تھا (یعنی ان کے مقابلہ میں میرا علم بہت تھوڑا تھا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 649]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 651] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعة 1395]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعة 1395]
وضاحت: (تشریح احادیث 626 سے 649)
ان تمام آثار سے علماء کی قدر و منزلت، ان کی زیارت کی اہمیت و فضیلت، اور علمی مذاکرۂ احادیث و اصول یاد کرنے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ احادیث کا یاد کرنا دہرانا سمر میں داخل نہیں جس سے احادیث میں روکا گیا ہے اور علمی مذاکره رات بھر تہجد پڑھنے سے بہتر ہے۔
ان تمام آثار سے علماء کی قدر و منزلت، ان کی زیارت کی اہمیت و فضیلت، اور علمی مذاکرۂ احادیث و اصول یاد کرنے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ احادیث کا یاد کرنا دہرانا سمر میں داخل نہیں جس سے احادیث میں روکا گیا ہے اور علمی مذاکره رات بھر تہجد پڑھنے سے بہتر ہے۔