🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

95. باب الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ عِنْدَ الصَّلاَةِ أَوْ تَحِيضُ:
نماز کے وقت میں کوئی عورت پاک ہو یا اسے حیض آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 925
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يُونُسَ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ، صَلَّتْ تِلْكَ الصَّلَاةَ، وَلَا تُصَلِّي غَيْرَهَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب عورت کسی نماز کے وقت میں پاک ہو تو وہ نماز پڑھے، اور دوسری نماز نہیں پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 925]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 929] »
اس کی سند صحیح ہے۔ حجاج: ابن منہال ہیں۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 926
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: قَرَأْتُ عَلَى زَيْدِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ: "تُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ"، قُلْتُ: فَإِنْ كَانَ طُهْرُهَا قَرِيبًا مِنْ مَغِيبِ الشَّمْسِ، قَالَ:"تُصَلِّي الْعَصْرَ وَلَا تُصَلِّي الظُّهْرَ، وَلَوْ أَنَّهَا لَمْ تَطْهُرْ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا شَيْءٌ"، سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَأْخُذُ بِهِ؟، قَالَ: لَا.
امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: میں نے زید بن یحییٰ کے پاس امام مالک رحمہ اللہ سے یہ قول پڑھا کہ جو عورت عصر کے بعد پاک ہو تو؟ انہوں نے کہا: ظہر و عصر (دونوں) پڑھے گی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اگر طہر کا وقت غروب آفتاب سے کچھ پہلے ہو تو صرف عصر پڑھے گی ظہر نہیں، اور اگر وہ غروب شمس کے بعد پاک ہو تو اس پر کچھ واجب نہیں، امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ کا بھی یہی قول ہے؟ کہا: نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 926]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 930] »
اس قول کی سند صحیح ہے، کہیں اور یہ روایت نہیں ملی۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں