سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب الْمَرْأَةِ تَطْهُرُ عِنْدَ الصَّلاَةِ أَوْ تَحِيضُ:
نماز کے وقت میں کوئی عورت پاک ہو یا اسے حیض آئے
حدیث نمبر: 915
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: حَدَّثَنَا عَنْ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ فِي وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَلَيْسَ عَلَيْهَا الْقَضَاءُ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْقُوبُ هُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ قَاضِي مَرْوٍ، وَأَبُو يُوسُفَ شَيْخٌ مَكِّيٌّ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: نماز کے وقت میں عورت کو حیض آ جائے تو اس پر کوئی قضا نہیں ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعقوب: ابن القعقاع قاضی مرد اور ابویوسف: شیخ مکی ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 915]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 919] »
اس کی سند جید ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
اس کی سند جید ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
حدیث نمبر: 916
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَقَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَإِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ الْفَجْرِ، صَلَّتْ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ"..
عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: عورت جب مغرب سے پہلے پاک ہو جائے تو ظہر و عصر بھی پڑھے گی اور فجر سے پہلے پاک ہو تو مغرب عشاء بھی پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 920] »
حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، لیکن قیس بن سعد نے ان کی متابعت کی ہے اس لئے اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 336/2] ۔ نیز یہ روایت (920) میں آگے آرہی ہے۔
حجاج بن ارطاۃ ضعیف ہیں، لیکن قیس بن سعد نے ان کی متابعت کی ہے اس لئے اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 336/2] ۔ نیز یہ روایت (920) میں آگے آرہی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 917
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، مِثْلَهُ..
سعید ابن المسیب رحمہ اللہ سے بھی مذکورہ بالا روایت منقول ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 917]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد، [مكتبه الشامله نمبر: 921] »
اس قول کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری اسانید سے تقویت ملتی ہے۔
اس قول کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری اسانید سے تقویت ملتی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد
حدیث نمبر: 918
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا، مِثْلَهُ..
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل منقول ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 918]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 922] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن [مصنف ابن أبى شيبه 337/2] میں بسند صحیح مذکور ہے۔
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن [مصنف ابن أبى شيبه 337/2] میں بسند صحیح مذکور ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 919
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْحَائِضِ "تُصَلِّي الصَّلَاةَ الَّتِي طَهُرَتْ فِي وَقْتِهَا".
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورت جس نماز کے وقت پاک ہوئی وہ نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 919]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 923] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1286]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1286]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 920
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، قَالُوا: "إِذَا طَهُرَتْ الْحَائِضُ قَبْلَ الْفَجْرِ، صَلَّتْ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَإِذَا طَهُرَتْ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ".
عطاء، طاؤس اور مجاہد رحمہم اللہ نے کہا کہ حائضہ عورت جب نماز فجر سے پہلے پاک ہو جائے تو مغرب و عشاء بھی پڑھے اور جب غروب آفتاب سے قبل پاک ہو جائے تو ظہر اور عصر بھی پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 920]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 924] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہ مذکور بالا بزرگوں کے اقوال ہیں، جو ایک احتیاطی امر ہے تاکہ عورت تارکِ صلاة شمار نہ ہو۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 337/2] و [مصنف عبدالرزاق 1281]
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہ مذکور بالا بزرگوں کے اقوال ہیں، جو ایک احتیاطی امر ہے تاکہ عورت تارکِ صلاة شمار نہ ہو۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 337/2] و [مصنف عبدالرزاق 1281]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 921
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ فِي الْحَائِضِ "إِذَا رَأَتْ الطُّهْرَ آخِرَ النَّهَارِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَإِذَا طَهُرَتْ آخِرَ اللَّيْلِ، صَلَّتْ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ"..
حکم نے حائضہ کے بارے میں فرمایا کہ جب وہ دن کے آخر میں پاکی دیکھے تو ظہر و عصر ادا کرے اور رات کے آخری وقت میں طہارت دیکھے تو مغرب و عشاء بھی پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 921]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 925] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 337/2] و [مصنف عبدالرزاق 1282]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 337/2] و [مصنف عبدالرزاق 1282]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 922
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، مِثْلَهُ..
امام طاؤس رحمہ اللہ سے بھی مثل سابق مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 922]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 926] »
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند کمزور ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 337/2] و [مصنف عبدالرزاق 1283]
لیث بن ابی سلیم کی وجہ سے اس کی سند کمزور ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 337/2] و [مصنف عبدالرزاق 1283]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 923
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ، يَقُولُ: "إِذَا طَهُرَتْ عِنْدَ الْعَصْرِ، صَلَّتْ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ".
مغیرہ سے مروی ہے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ فرماتے تھے: عصر کے وقت عورت اگر پاک ہو تو ظہر و عصر پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 923]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 927] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 336/2، 337]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 336/2، 337]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 924
أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: سَأَلْتُ حَمَّادًا، قَالَ: "إِذَا طَهُرَتْ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ صَلَّتْ".
شعبہ نے کہا: میں نے حماد (بن ابی سلیمان) سے پوچھا: جب عورت نماز کے وقت میں پاک ہو تو؟ انہوں نے کہا: نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 924]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 928] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور کہیں یہ روایت نہیں مل سکی۔
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور کہیں یہ روایت نہیں مل سکی۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح