سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
105. باب الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ تُصَلِّي في ثَوْبِهَا إِذَا طَهُرَتْ:
حائضہ عورت کا طہارت کے بعد حیض والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1044
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "إِذَا طَهُرَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ الْحَيْضِ، فَلْتَتَّبِعْ ثَوْبَهَا الَّذِي يَلِي جِلْدَهَا فَلْتَغْسِلْ مَا أَصَابَهُ مِنْ الْأَذَى، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اس کی جلد سے قریب جو کپڑا تھا اس پر جو دھبہ آیا، اسے دھو ڈالے، پھر اس میں نماز پڑھ سکتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1048] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اصل [بخاري 308] میں موجود ہے۔ نیز دیکھئے: [بيهقي 46/2]
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اصل [بخاري 308] میں موجود ہے۔ نیز دیکھئے: [بيهقي 46/2]
حدیث نمبر: 1045
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كَانَ يَكُونُ لِإِحْدَانَا الدِّرْعُ فِيهِ تَحِيضُ وَفِيهِ تُجْنِبُ، ثُمَّ تَرَى فِيهِ الْقَطْرَةَ مِنْ دَمِ حَيْضَتِهَا، فَتَقْصَعُهُ بِرِيقِهَا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم میں سے کسی کے پاس ایک قمیص ہوتی، اسی کو حیض کے ایام میں پہنتی، اسی میں جنابت سے ہوتی، پھر اس میں حیض کا کوئی قطرہ لگ جاتا تو تھوک لگا کر اس کو مل دیتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1049] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 358، 364] و مصنف عبدالرزاق (1229)، اور اصل [بخاري 312] میں موجود ہے۔ نیز دیکھئے [بيهقي 405/2]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 358، 364] و مصنف عبدالرزاق (1229)، اور اصل [بخاري 312] میں موجود ہے۔ نیز دیکھئے [بيهقي 405/2]
حدیث نمبر: 1046
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ"إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَسْبِقُهَا الْقَطْرَةُ مِنْ الدَّمِ، فَإِذَا أَصَابَتْ إِحْدَاكُنَّ ذَلِكَ فَلْتَقْصَعْهُ بِرِيقِهَا".
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم میں سے کسی کے کپڑے میں خون کا دھبہ لگ جائے تو وہ اپنے لعاب سے مل ڈالے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1046]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 1050] »
اس روایت میں ابوبکر الھذلی متروک ہیں، اس سند سے یہ روایت اور کہیں نہیں ملی، ہاں ابن ابی شیبہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [المصنف 95/1]
اس روایت میں ابوبکر الھذلی متروک ہیں، اس سند سے یہ روایت اور کہیں نہیں ملی، ہاں ابن ابی شیبہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول ذکر کیا ہے۔ دیکھئے: [المصنف 95/1]
حدیث نمبر: 1047
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "إِذَا غَسَلَتْ الْمَرْأَةُ الدَّمَ فَلَمْ يَذْهَبْ، فَلْتُغَيِّرْهُ بِصُفْرَةِ وَرْسٍ، أَوْ زَعْفَرَانٍ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب عورت خون کو دھو ڈالے، پھر بھی اس کا اثر زائل نہ ہو تو اس کو کسی زرد چیز یا ورس یا زعفران سے پلٹ دے۔ یعنی رگڑ دے تاکہ رنگ بدل جائے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1051] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 357] و [بيهقي 408/2]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 357] و [بيهقي 408/2]
حدیث نمبر: 1048
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ لَهَا امْرَأَةٌ: الدَّمُ يَكُونُ فِي الثَّوْبِ فَأَغْسِلُهُ، فَلَا يَذْهَبُ، فَأُقَطِّعُهُ؟، قَالَتْ: "الْمَاءُ طَهُورٌ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک خاتون نے پوچھا: کپڑے پر خون ہو، میں اسے دھو ڈالوں پھر بھی اثر نہ جائے تو اسے کتر دوں؟ فرمایا: پانی پاک کر دیتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1052] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 408/2]
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بيهقي 408/2]
حدیث نمبر: 1049
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خِلَاسَ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ: "يَكُونُ مَعِي فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ إِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَا أَصَابَهُ، لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ، وَصَلَّى فِيهِ ثُمَّ يَعُودُ، وَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ، فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، غَسَلَ مَكَانَهُ لَمْ يَعْدُهُ إِلَى غَيْرِهِ، وَصَلَّى فِيهِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ایک کپڑے میں ہوتے اور میں حیض سے ہوتی، اگر میرا خون آپ کے لگ جاتا تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے، اس سے تجاوز نہ کرتے، پھر اسی میں نماز ادا کرتے، پھر تشریف لاتے اور خون لگ جاتا تو ایسا ہی کرتے، فقط اسی جگہ کو دھوتے، تجاوز نہ کرتے، اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1049]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1053] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 269] ، [نسائي 283، 772] ، [مسند أبى يعلی 4802]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 269] ، [نسائي 283، 772] ، [مسند أبى يعلی 4802]
حدیث نمبر: 1050
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِيمَا تَلْبَسُ الْمَرْأَةُ مِنْ الثِّيَابِ وَهِيَ حَائِضٌ "إِنْ أَصَابَهُ دَمٌ، غَسَلَتْهُ، وَإِلَّا فَلَيْسَ عَلَيْهَا غَسْلُهُ وَإِنْ عَرِقَتْ فِيهِ، فَإِنَّهُ يُجْزِئُهَا أَنْ تَنْضَحَهُ".
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: وہ کپڑا جس کو حائضہ پہنتی ہے اس پر خون لگ جائے تو اس کو دھو ڈالے، اگر خون نہیں لگا تو دھونا ضروری نہیں، چاہے اس میں پسینہ لگا ہو، صرف پانی کے چھینٹے مارنا کافی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1050]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1054] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 95/1] ۔ حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 95/1] ۔ حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔
حدیث نمبر: 1051
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "الْمَرْأَةُ الْحَائِضُ تُصَلِّي فِي ثِيَابِهَا الَّتِي تَحِيضُ فِيهَا، إِلَّا أَنْ يُصِيبَ شَيْئًا مِنْهَا دَمٌ، فَتَغْسِلَ مَوْضِعَ الدَّمِ".
مجاہد نے کہا: حائضہ عورت جن کپڑوں میں حیض سے ہوئی، انہیں میں نماز پڑھ سکتی ہے، سوائے اس کے کہ ان کپڑوں میں خون لگ جائے، (ایسی صورت میں) بس خون کی جگہ دھو ڈالے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1051]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1055] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 96/1]
حدیث نمبر: 1052
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، قَالَ: "حُتِّيهِ ثُمَّ رُشِّيهِ بِالْمَاءِ".
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں دریافت کیا جو کپڑے پر لگ جائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو کھرچ دو، اور پھر اس پر پانی چھڑک دو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1056] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 227] ، [مسلم 291] ، [صحيح ابن حبان 1396] و [مسند الحميدي 322]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 227] ، [مسلم 291] ، [صحيح ابن حبان 1396] و [مسند الحميدي 322]
حدیث نمبر: 1053
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْحَائِضُ لَا تَغْسِلُ ثَوْبَهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ دَمٌ".
امام ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: حائضہ کے کپڑے میں خون نہ لگے تو اس کپڑے کو دھونے کی ضرورت نہیں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1057] »
اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن یہ روایت کہیں اور نہیں ملی۔ د یکھئے: اثر رقم (1050)۔
اس قول کی سند صحیح ہے، لیکن یہ روایت کہیں اور نہیں ملی۔ د یکھئے: اثر رقم (1050)۔