🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابُ: {وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلاً}:
باب: آیت کی تفسیر ”اور انسان سب چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4724
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ، قَالَ:" أَلَا تُصَلِّيَانِ؟". رَجْمًا بِالْغَيْبِ: لَمْ يَسْتَبِنْ، فُرُطًا: يُقَالُ نَدَمًا، سُرَادِقُهَا: مِثْلُ السُّرَادِقِ وَالْحُجْرَةِ الَّتِي تُطِيفُ بِالْفَسَاطِيطِ يُحَاوِرُهُ مِنَ الْمُحَاوَرَةِ، لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي: أَيْ لَكِنْ أَنَا هُوَ اللَّهُ رَبِّي، ثُمَّ حَذَفَ الْأَلِفَ وَأَدْغَمَ إِحْدَى النُّونَيْنِ فِي الْأُخْرَى، وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا، يَقُولُ: بَيْنَهُمَا، زَلَقًا: لَا يَثْبُتُ فِيهِ قَدَمٌ، هُنَالِكَ الْوِلَايَةُ: مَصْدَرُ الْوَلِيِّ، عُقُبًا: عَاقِبَةً، وَعُقْبَى وَعُقْبَةً وَاحِدٌ وَهِيَ الْآخِرَةُ قِبَلًا، وَقُبُلًا وَقَبَلًا اسْتِئْنَافًا، لِيُدْحِضُوا: لِيُزِيلُوا الدَّحْضُ الزَّلَقُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں علی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے اور فرمایا۔ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے (آخر حدیث تک)۔ «رجما بالغيب‏» یعنی سنی سنائی اور ان کو خود کچھ علم نہیں۔ «فرطا‏» ندامت، شرمندگی۔ «سرادقها‏» یعنی قناتوں کی طرح سب طرف سے ان کو آگ گھیر لے گی جیسے کوٹھری کو سب طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ «يحاوره‏»، «محاورة» سے نکلا ہے یعنی گفتگو کرنا، تکرار کرنا۔ «لكنا هو الله ربي‏» اصل میں «لكن أنا هو الله ربي» تھا «أنا» کا ہمزہ حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کر دیا «لكنا» ہو گیا۔ «خلالهما نهرا» یعنی «بينهما» ان کے بیچ میں۔ «زلقا» چکنا، صاف جس پر پاؤں پھسلے (جمے نہیں)۔ «هنالك الولاية‏»، «ولايت‏»، «ولي» کا مصدر ہے۔ «عقبا‏»، «عاقبت» اسی طرح «عقبى» اور «عقبة» سب کا ایک ہی معنی ہے یعنی آخرت۔ «قبلا» اور «قبلا» اور «قبلا» (تینوں طرح پڑھا ہے) یعنی سامنے آنا۔ «ليدحضوا‏»، «دحض» سے نکلا ہے یعنی پھسلانا (مطلب یہ ہے کہ حق بات کو ناحق کریں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4724]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور فرمایا: تم لوگ نماز (تہجد) کیوں نہیں پڑھتے؟ ﴿رَجْمًا بِالْغَيْبِ﴾ [سورة الكهف: 22] کے معنی ہیں: خود انہیں کچھ معلوم نہیں، یعنی بغیر علم کے رائے زنی کرنا۔ ﴿فُرُطًا﴾ [سورة الكهف: 28] کے معنی ہیں: ندامت اور شرمندگی۔ ﴿سُرَادِقُهَا﴾ [سورة الكهف: 29] کا مطلب ہے کہ قناتوں کی طرح ہر طرف سے انہیں آگ گھیر لے گی جس طرح کوٹھڑی اور حجرے کو ہر طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ ﴿يُحَاوِرُهُ﴾ [سورة الكهف: 34] ، «مُحَاوَرَة» سے نکلا ہے، یعنی گفتگو کرنا۔ ﴿لَٰكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي﴾ [سورة الكهف: 38] دراصل یہ تھا: «لَكِنْ أَنَا هُوَ اللهُ رَبِّي»، پھر «أَنَا» کا الف حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کر دیا گیا، لہٰذا یہ «لَكِنَّا» ہو گیا۔ ﴿وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا﴾ [سورة الكهف: 33] کے معنی ہیں: ہم نے ان دونوں (باغوں) کے درمیان ایک نہر جاری کر دی۔ ﴿زَلَقًا﴾ [سورة الكهف: 40] کے معنی ہیں: ایسا چکنا چپڑا (میدان) جس میں پاؤں پھسل جائیں، جم نہ سکیں۔ ﴿هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ﴾ [سورة الكهف: 44] میں «الْوِلَايَة» «وَلِي» کا مصدر ہے۔ ﴿عُقْبًا﴾ [سورة الكهف: 44] کے معنی ہیں: عاقبت، یعنی انجام۔ «عَاقِبَة»، «عُقْبَى» اور «عُقْبَة» سب کے ایک ہی معنی ہیں، یعنی آخرت۔ «قُبُلًا»، «قَبَلًا» اور «قِبَلًا» اس لفظ کو تین طرح پڑھا گیا ہے، اس کے معنی ہیں: سامنے سے آنا۔ ﴿لِيُدْحِضُوا﴾ [سورة الكهف: 56] ، «دَحْض» سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہیں: پھسلا دینا اور زائل کر دینا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4724]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں