🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب في مِيرَاثِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الإِسْلاَمِ:
مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3021
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى: أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ: أَنَّ عَمَّةً لَهُ تُوُفِّيَتْ يَهُودِيَّةً بِالْيَمَنِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: "يَرِثُهَا أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا".
محمد بن اشعث سے مروی ہے کہ ان کی یہودیہ پھوپھی یمن میں فوت ہو گئیں، انہوں نے اس کا تذکرہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے کہا: جو ان کا قریبی رشتہ دار ان کے مذہب پر ہو گا وہی ان کا وارث ہو گا۔ (یعنی تم مسلمان ہو، اس یہودیہ پھوپھی کے وارث نہ ہو گے، ان کا یہودی رشتے دار ہی ان کا وارث ہو گا۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3021]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 3031] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [الموطأ: ميراث أهل الملل فى الفرائض 12] ، [ابن أبى شيبه 11490] ، [عبدالرزاق 9859، 19307] ، [البيهقي 218/3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3022
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: مَاتَتْ عَمَّةُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ وَهِيَ يَهُودِيَّة، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّاب، فَقَالَ: "أَهْلُ دِينِهَا يَرِثُونَهَا".
طارق بن شہاب نے کہا: اشعث بن قیس کی پھوپھی وفات پا گئیں جو کہ یہودی تھیں، وہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے جواب دیا: جو ان کے دین پر ہیں (یعنی یہودی ہیں صرف) وہی ان کے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3022]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3032] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11484] ، [عبدالرزاق 9860] ، [البيهقي 219/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3023
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "أَهْلُ الشِّرْكِ لَا نَرِثُهُمْ، وَلَا يَرِثُونَا".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم مشرکین کے وارث نہیں ہیں، نہ وہ ہمارے وارث ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3033] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن اس کی سند میں انقطاع ہے، ابراہیم رحمہ اللہ ( «لم يدرك عمر رضي الله عنه» ) اور حماد: ابن ابی سلیمان ہیں۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [عبدالرزاق 9856، 19294] ، [ابن منصور 141] ۔ یہ روایت آگے مرفوع آرہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مشرک کا وارث نہیں ہوگا، اور نہ مشرک مسلمان کا وراث بنے گا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ، عَنْ عِيسَى الْخياط، عَنْ الشَّعْبِيِّ:"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، قَالُوا: لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ دِينَيْنِ".
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما دو (مختلف) دین کے لوگوں کو آپس میں وارث نہیں مانتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 3034] »
اس اثر کی سند میں حسن: ابن صالح ہیں اور عیسیٰ بن ابی عیسیٰ الخیاط متروک ہیں۔ اس اثر کو عبدالرزاق نے [مصنف 9871] پر ذکر کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3025
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: "لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ".
عامر (الشعبی) رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو (مختلف) ملتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3025]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3035] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے کیوں کہ عامر الشعبی کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [عبدالرزاق 9864] ، لیکن اس کا شاہد صحیحین میں موجود ہے جیسا کہ آگے (3033) میں آرہا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3026
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: "لَا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا يَرِثُونَا، إِلَّا أَنْ يَمُوتَ لِلرَّجُلِ عَبْدُهُ أَوْ أَمَتُهُ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل کتاب کے نہ ہم وارث ہوں گے نہ وہ ہمارے وارث ہوں گے۔ سوائے اس کے کہ کسی آدمی کا غلام یا اس کی لونڈی فوت ہو جائے۔ (یعنی مسلم غیر مسلم کا وارث نہیں لیکن کسی کا غیر مسلم غلام یا لونڈی فوت ہوئے تو اس کا مال آقا کو ملے گا۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف وهو موقوف على جابر، [مكتبه الشامله نمبر: 3036] »
اس روایت کی سند میں ضعف ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11495] و [مجمع الزوائد 7245 موقوفًا على جابر]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ الْأَشْعَثِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا نَرِثُ أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا يَرِثُونَا، إِلَّا الرَّجُلُ يَرِثُ عَبْدَهُ، أَوْ أَمَتَهُ".
اس حدیث کا ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3027]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3037] »
تخریج بھی وہی ہے جو اوپر گذری۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3028
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:"كَانَ مُعَاوِيَةُ يُوَرِّثُ الْمُسْلِمَ مِنْ الْكَافِرِ، وَلَا يُوَرِّثُ الْكَافِرَ مِنْ الْمُسْلِمِ، قَالَ: قَالَ مَسْرُوقٌ: وَمَا حَدَثَ فِي الْإِسْلَامِ قَضَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهَذَا؟ قَالَ: لا.
مسروق رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان کو کافر کا وارث مانتے تھے لیکن کافر کو مسلم کا وارث نہیں مانتے تھے، شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مسروق نے کہا: اسلام میں اس سے زیادہ اچھا مجھے اور کوئی فیصلہ نہ لگا۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ بھی یہی فرماتے ہیں؟ کہا: نہیں (یعنی دونوں کے درمیان توارث جائز نہیں جیسا کہ آگے صحیح حدیث میں آرہا ہے۔) [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أننا لم نعرف لمسروق رواية عن معاوية، [مكتبه الشامله نمبر: 3038] »
اس اثر کے رواۃ ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11497] ، [ابن منصور 145، 147 بسند صحيح]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ: أَنَّ الْمُعْزِلَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ تُوُفِّيَتْ بِالْيَمَنِ وَهِيَ يَهُودِيَّةٌ، فَرَكِبَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَكَانَتْ عَمَّتَهُ، إِلَى عُمَرَ فِي مِيرَاثِهَا، فَقَالَ عُمَرُ:"لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، يَرِثُهَا أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا، لَا يَتَوَارَثُ مِلَّتَانِ".
عامر الشعبی رحمہ اللہ نے کہا: معزلہ بنت حارث یہودیہ یمن میں فوت ہوئیں تو اشعث بن قیس جن کی وہ پھوپھی تھیں سوار ہو کر اس کی میراث کے بارے میں پوچھنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ان کی میراث نہیں پا سکتے ہو، ان کے دین والا ان کا قریبی رشتے دار ہی ان کا وارث ہو گا (کیوں کہ) دو ملتوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3029]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3039] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن سعيد بن منصور 144] ۔ نیز دیکھئے: رقم (3024، 3025) کی تخریج۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3030
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: "لَا يَتَوَارَثُ مِلَّتَانِ شَتَّى، وَلَا يَحْجُبُ مَنْ لَا يَرِثُ".
انس بن سیرین نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دو مختلف ملتوں کے لوگ وارث نہ ہوں گے، اور جو وارث نہ ہو محروم بھی نہ کرے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3030]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع أنس بن سيرين لم يدرك ابن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 3040] »
اس اثر کی سند میں انقطاع ہے، انس نے امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، رجال اس سند کے ثقات ہیں۔ دیکھئے: [ابن منصور 138]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں