سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في مِيرَاثِ أَهْلِ الشِّرْكِ وَأَهْلِ الإِسْلاَمِ:
مشرک اور مسلم کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 3031
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3031]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3041] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6764] ، [مسلم 1614] ، [أبوداؤد 2909] ، [ترمذي 2108] ، [ابن ماجه 2729] ، [أبويعلی 4757] ، [ابن حبان 6033] ، [الحميدي 551] ۔ نیز آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6764] ، [مسلم 1614] ، [أبوداؤد 2909] ، [ترمذي 2108] ، [ابن ماجه 2729] ، [أبويعلی 4757] ، [ابن حبان 6033] ، [الحميدي 551] ۔ نیز آگے بھی یہ حدیث آرہی ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3020 سے 3031)
یعنی باپ مسلمان ہو اور بیٹا کافر تو باپ بیٹے کا وارث نہیں ہوگا، اور بیٹا کافر باپ مسلمان ہو تب بھی بیٹا باپ کا وارث نہ ہوگا۔
یعنی باپ مسلمان ہو اور بیٹا کافر تو باپ بیٹے کا وارث نہیں ہوگا، اور بیٹا کافر باپ مسلمان ہو تب بھی بیٹا باپ کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3032
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ وَجَبَتْ الْحُقُوقُ لِأَهْلِهَا، وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ شَيْئًا".
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: جب آدمی مر جائے تو وارث کا حق (وراثت) واجب ہو جاتا ہے، اور جو میراث کی تقسیم سے پہلے مسلمان ہو یا آزاد ہو اس کے لئے میراث میں سے انہوں نے کچھ نہیں رکھا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3032]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جعفر بن عون لم يذكر فيمن سمع سعيد بن أبي عروبة قبل الاختلاط، [مكتبه الشامله نمبر: 3042] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11675] ، [عبدالرزاق 9889]
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11675] ، [عبدالرزاق 9889]
وضاحت: (تشریح حدیث 3031)
یعنی آدمی کے مرنے کے بعد اس کا وارث جو کا فر تھا، تقسیم سے پہلے اگر مسلمان ہو جائے تب بھی وارث نہ ہوگا، اسی طرح غلام موت کے بعد تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے بھی وراثت نہ ملے گی کیوں کہ مرنے والے کی حیات میں وہ اس کے خلافِ مذہب اور مانعِ ارث تھے۔
یعنی آدمی کے مرنے کے بعد اس کا وارث جو کا فر تھا، تقسیم سے پہلے اگر مسلمان ہو جائے تب بھی وارث نہ ہوگا، اسی طرح غلام موت کے بعد تقسیم سے پہلے آزاد ہو تو اسے بھی وراثت نہ ملے گی کیوں کہ مرنے والے کی حیات میں وہ اس کے خلافِ مذہب اور مانعِ ارث تھے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف جعفر بن عون لم يذكر فيمن سمع سعيد بن أبي عروبة قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 3033
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3033]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3043] »
اس حدیث کی تخریج (3031) پرگذر چکی ہے۔
اس حدیث کی تخریج (3031) پرگذر چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح والحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ".
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گزری۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3044] »
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گذری۔
اس حدیث کا ترجمہ اور تخریج وہی ہے جو اوپر گذری۔
وضاحت: (تشریح احادیث 3032 سے 3034)
ان تمام آثار اور احادیث سے ثابت ہوا کہ مسلم غیرمسلم کا اور غیرمسلم مسلمان کا وارث نہ ہوگا۔
ان تمام آثار اور احادیث سے ثابت ہوا کہ مسلم غیرمسلم کا اور غیرمسلم مسلمان کا وارث نہ ہوگا۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح