صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ خَادِمِ الْمَرْأَةِ:
باب: عورت کے لیے خادم کا ہونا۔
حدیث نمبر: 5362
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعَ مُجَاهِدًا، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ،" أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ؟ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ"، ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ، فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ قِيلَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن ابی یزید نے بیان کیا، انہوں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے عبداللہ بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں اور آپ سے ایک خادم مانگا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتا دوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہو۔ سوتے وقت تینتیس (33) مرتبہ «سبحان الله»، تینتیس (33) مرتبہ «الحمد الله» اور چونتیس (34) مرتبہ «الله اكبر» پڑھ لیا کرو۔ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ ان میں سے ایک کلمہ چونتیس بار کہہ لے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے ان کلموں کو کبھی نہیں چھوڑا۔ ان سے پوچھا گیا جنگ صفین کی راتوں میں بھی نہیں؟ کہا کہ صفین کی راتوں میں بھی نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5362]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے ایک خادمہ دینے کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر کی خبر دوں؟ (وہ یہ ہے کہ) سوتے وقت 33 مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“ کہو، 33 مرتبہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ کہو اور 34 مرتبہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو۔“ راویِ حدیث حضرت سفیان کہتے ہیں کہ ”ان میں سے ایک 34 مرتبہ ہے۔“ (حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ”میں نے اس کے بعد ان (تسبیحات) کو کبھی ترک نہیں کیا“، کسی نے ان سے پوچھا: ”صفین کی رات بھی نہیں چھوڑا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”(میں نے) صفین کی رات بھی ان کی پابندی کی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب النَّفَقَاتِ/حدیث: 5362]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة