🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ تَعَرُّقِ الْعَضُدِ:
باب: بازو کا گوشت نوچ کر کھانا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5406
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَكَّةَ".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عثمان ابن عمر نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار مدنی نے، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) دوسری سند (حدیث دیکھیں 5407) [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5406]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5406]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5407
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ:" كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازِلٌ أَمَامَنَا وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي فَلَمْ يُؤْذِنُونِي لَهُ وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ، فَالْتَفَتُّ، فَأَبْصَرْتُهُ، فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ، فَأَسْرَجْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقُلْتُ لَهُمْ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَغَضِبْتُ، فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا، ثُمَّ رَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ، فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي، فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ، فَأَكَلَهَا حَتَّى تَعَرَّقَهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، مِثْلَهُ.
اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر کو دیکھا۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا۔ ان لوگوں نے مجھے اس گورخر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ (کیونکہ ہم محرم ہیں) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اتر کر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس (شکار کا گوشت) کھانا کیسا ہے؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5407]
حضرت ابو قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک مقام پر بیٹھا ہوا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ دیگر تمام صحابہ احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر دیکھا۔ میں اس وقت اپنے جوتے گانٹھنے میں مصروف تھا انہوں نے مجھے گورخر کے متعلق کچھ نہ بتایا لیکن وہ چاہتے تھے کہ میں اس کی طرف دیکھ لوں اچانک میں ادھر متوجہ ہوا تو وہ مجھے نظر آ گیا۔ پھر میں اپنے گھوڑے کی طرف گیا، اس پر زین رکھی اور سوار ہو گیا لیکن اپنا کوڑا اور نیزہ نیچے بھول گیا میں نے ان سے کہا: مجھے نیزہ اور کوڑا پکڑا دو۔ انہوں نے کہا: ایسا نہیں ہو سکتا، اللہ کی قسم! ہم اس (شکار کے) معاملے میں تمہاری کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے۔ میں یہ سن کر غصے سے بھر گیا چنانچہ میں نے اتر کر یہ دونوں چیزیں اٹھائیں، پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور اس کے پاؤں کاٹ ڈالے پھر میں اس کو لایا تو وہ ختم ہو چکا تھا۔ جب میں نے اسے پکا لیا تو کھانے میں سب شریک ہو گئے۔ بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں انہیں اسے کھانے کی اجازت بھی تھی؟ چنانچہ ہم وہاں سے روانہ ہوئے تو میں نے اس کے بازو کا گوشت چھپا کر رکھا۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس اس میں سے کچھ باقی ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ شانہ پیش کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تناول فرمایا یہاں تک کہ اس کے گوشت کو دانتوں سے نوچ کر ہڈی کو ننگا کر دیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں تھے۔ محمد بن جعفر نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5407]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں