صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الأَذَى:
باب: تکلیف پر صبر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6099
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ}.
اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الرعد میں) فرمایا «إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب» ”بلاشبہ صبر کرنے والے بےحد اپنا ثواب پائیں گے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: Q6099]
حدیث نمبر: 6099
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ أَحَدٌ أَوْ لَيْسَ شَيْءٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى سَمِعَهُ مِنَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ لَيَدْعُونَ لَهُ وَلَدًا وَإِنَّهُ لَيُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص بھی یا کوئی چیز بھی تکلیف برداشت کرنے والی، جو اسے کسی چیز کو سن کر ہوئی ہو، اللہ سے زیادہ (صبر کرنے والا) نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ انہیں روزی بھی دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6099]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”کوئی شخص جو کسی سے اذیت سنے وہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا نہیں ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور انہیں تندرستی دیتا ہے بلکہ روزی بھی عطا کرتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6099]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6100
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ شَقِيقًا، يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَسَم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً كَبَعْضِ مَا كَانَ يَقْسِمُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللَّهِ إِنَّهَا لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، قُلْتُ: أَمَّا أَنَا لَأَقُولَنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَسَارَرْتُهُ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَغَيَّرَ وَجْهُهُ وَغَضِبَ، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَخْبَرْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" قَدْ أُوذِيَ مُوسَى بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ عبداللہ بن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جنگ حنین) میں کچھ مال تقسیم کیا جیسا کہ آپ ہمیشہ تقسیم کیا کرتے تھے۔ اس پر قبیلہ انصار کے ایک شخص نے کہا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم سے اللہ کی رضا مندی حاصل کرنا مقصود نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہوں گا۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے، میں نے چپکے سے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر نہ دی ہوتی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6100]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت تقسیم کیا جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بھی کیا کرتے تھے۔ ایک انصاری آدمی نے کہا: ”اس تقسیم میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا خیال نہیں رکھا گیا۔“ میں نے (دل میں) کہا: ”یہ بات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ذکر کروں گا“، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے چپکے سے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کر دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہت ناگوار گزری، چہرہ انور متغیر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غضب ناک ہوئے یہاں تک کہ میں نے خواہش کی: کاش! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر نہ دیتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام کو اس سے بھی زیادہ اذیت پہنچائی گئی تھی لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6100]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة