مشكوة المصابيح سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
--. (ذِكْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ)
تورات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر
حدیث نمبر: 5752
5752 - وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي التَّوْرَاةِ ، قَالَ: أَجَلْ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ: يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ ; وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
عطا بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس صفت کے متعلق بتائیں جو تورات میں مذکور ہے، انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو صفات قرآن کریم میں ہیں، ان میں سے بعض تورات میں مذکور ہیں، جیسا کہ: ”اے نبی! ہم نے آپ کو خوشخبری سنانے والا، ڈرانے والا اور اَن پڑھوں (عربوں) کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں، میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے، آپ نہ تو بد اخلاق ہیں اور نہ سخت دل ہیں، آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں ہیں اور نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں، بلکہ آپ درگزر کرتے ہیں اور معاف کرتے ہیں، اور اللہ ان کی روح قبض نہیں کرے گا حتیٰ کہ وہ ان کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا کرا لے، اور وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کا اقرار کر لیں اور وہ اس (کلمے) کے ذریعے اندھی آنکھوں کو قوتِ بینائی، بہرے کانوں کو قوتِ سماعت اور غلاف میں بند دلوں کو کھول دے گا۔“ رواہ البخاری۔ [مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث: ´تحقيق و تخريج: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله` «رواه البخاري (2125)»
قال الشيخ الألباني: صَحِيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح