صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ الرَّجُلِ وَيْلَكَ:
باب: لفظ «ويلك» یعنی تجھ پر افسوس ہے کہنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 6159
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْلَكَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لیے ایک اونٹنی ہانکے لیے جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا، انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا، افسوس «ويلك» دوسری یا تیسری مرتبہ یہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6159]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنی قربانی کی اونٹنی کو ہانک کر لیے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: یہ تو قربانی کا جانور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سواری کر لو۔“ اس نے پھر کہا: یہ تو قربانی کے لیے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَيْلَكَ» ”تیری خرابی ہو، اس پر سوار ہو جاؤ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6159]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6160
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْلَكَ" فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، وہ امام مالک سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوالزناد سے، وہ اعرج سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکائے جا رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہو جا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو، تو سوار ہو جا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6160]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اس نے کہا: ”یہ تو قربانی کا جانور ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے ہلاکت ہو، اس پر سوار ہو جاؤ۔“ دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6160]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6161
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا (جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس «ويحك» اے انجشہ! شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6161]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک سیاہ فام غلام تھا، اسے انجشہ کہا جاتا تھا۔ وہ حدی پڑھ کر اونٹ چلا رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انجشہ! افسوس تجھ پر، آبگینوں کو آہستہ آہستہ لے کر چلو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6162
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ثَلَاثًا، مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا" إِنْ كَانَ يَعْلَمُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس «ويلك» تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی، تین مرتبہ (یہ فرمایا) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑ جائے تو یہ کہو کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے۔ اگر وہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6162]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے۔ ”اگر تمہیں کسی کی تعریف کرنی ہو اور وہ اس کے متعلق جانتا بھی ہو تو اس طرح کہو: ”فلاں کے متعلق میرا خیال یہ ہے، یقینی طور پر اللہ ہی اس کا حساب جانتا ہے، میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا“۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6163
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَالضَّحَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا، فَقَالَ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْدِلْ، قَالَ: وَيْلَكَ مَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ، فَقَالَ عُمَرُ: ائْذَنْ لِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ، قَالَ: لَا، إِنَّ لَهُ أَصْحَابًا يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمُرُوقِ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يُنْظَرُ إِلَى نَصْلِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى رِصَافِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى نَضِيِّهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى قُذَذِهِ فَلَا يُوجَدُ فِيهِ شَيْءٌ، قَدْ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ، يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ، آيَتُهُمْ رَجُلٌ إِحْدَى يَدَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ , قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْهَدُ أَنِّي كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ قَاتَلَهُمْ، فَالْتُمِسَ فِي الْقَتْلَى فَأُتِيَ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، ان سے زہری نے، ان سے ابوسلمہ اور ضحاک نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا: یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس کے کچھ (قبیلہ والے) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کو معمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ تیر کے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ (یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ (ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے) ان کی نشانی ان کا ایک مرد (سردار لشکر) ہو گا۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا یا (فرمایا) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہو گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے (نہروان میں) جنگ کی تھی۔ مقتولین میں تلاش کی گئی تو ایک شخص انہیں صفات کا لایا گیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6163]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ بنو تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ عدل و انصاف کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا؟“ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے، اس کے کچھ ساتھی ہوں گے، تم ان کی نماز کے مقابلے میں اپنی نماز کو اور ان کے روزوں کے مقابلے میں اپنے روزوں کو حقیر سمجھو گے۔ وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، تیر کے پھل کو دیکھا جائے تو اس پر کوئی نشان نہیں ملے گا، اس کی لکڑی کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا، پھر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا، حالانکہ وہ تیر شکار کے خون اور غلاظت سے گزر کر باہر آیا ہے۔ یہ لوگ اس وقت ظاہر ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ چکی ہوگی۔ ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں ایک آدمی ہوگا جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ہوگا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح حرکت کرے گا۔“ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب ان سے جنگ کی تھی تو میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ مقتولین میں وہ شخص تلاش کیا گیا تو وہ انہی صفات کا حامل تھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6163]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6164
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ، قَالَ: وَيْحَكَ , قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ: أَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ , قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: مَا أَجِدُ، فَأُتِيَ بِعَرَقٍ فَقَالَ خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعَلَى غَيْرِ أَهْلِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحْوَجُ مِنِّي، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، قَالَ: خُذْهُ"، تَابَعَهُ يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ وَيْلَكَ.
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس (کیا بات ہوئی؟) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروں میں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ فرمایا کہ جاؤ تم ہی لے لو۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ «ويحك» کے لفظ «ويلك.» روایت کیا ہے (معنی دونوں کے ایک ہی ہیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6164]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اللہ کے رسول! میں تو ہلاک ہو گیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَيْحَكَ» ”تیری خرابی ہو!“ اس نے عرض کی: ”میں نے رمضان میں (بحالت روزہ) اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک غلام آزاد کرو۔“ اس نے عرض کی: ”میرے پاس غلام نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔“ اس نے عرض کی: ”اس کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس قدر کھانا نہیں پاتا۔“ اس دوران میں کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لے لو اور اسے صدقہ کر دو۔“ اس نے عرض کی: ”اللہ کے رسول! کیا (میں) اپنے بال بچوں کے علاوہ دوسروں پر (صدقہ کروں؟) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مدینہ طیبہ کے دونوں کناروں کے درمیان مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک دکھائی دینے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے تم ہی لے لو۔“ زہری سے روایت کرنے میں یونس نے اوزاعی کی متابعت کی ہے۔ عبدالرحمن بن خالد نے زہری سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وَيْحَكَ» کے بجائے «وَيْلَكَ» فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6164]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6165
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ:" وَيْحَكَ إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا".
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری نے کہ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے (اس کی نیت ہجرت کی تھی)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تجھ پر افسوس! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہ کرے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6165]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے ہجرت کے متعلق کچھ بتائیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری خرابی ہو، ہجرت کا معاملہ تو بہت سخت ہے، کیا تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم شہروں اور بستیوں سے پرے اپنا کاروبار کرتے رہو، اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6165]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6166
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ" قَالَ شُعْبَةُ: شَكَّ هُوَ" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ"، وَقَالَ النَّضْرُ:، عَنْ شُعْبَةَ" وَيْحَكُمْ"، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: عَنْ أَبِيهِ،" وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس ( «ويلكم» یا «ويحكم») شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ (واقد بن محمد کو) تھا۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا «ويحكم» اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے «ويلكم» یا «ويحكم» کے لفظ نقل کئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6166]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس! میرے بعد تم کافروں کی طرح نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔“ نضر نے شعبہ سے «وَيْحَكُمْ» ”تم پر افسوس ہو“ کی روایت کی ہے، جبکہ عمر بن محمد نے اپنے باپ سے «وَيْلَكُمْ» ”تمہارے لیے ہلاکت ہو“ یا «وَيْحَكُمْ» ”تم پر افسوس ہو“ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6166]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6167
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ قَائِمَةٌ؟ قَالَ:" وَيْلَكَ، وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ" فَقُلْنَا: وَنَحْنُ كَذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفَرِحْنَا يَوْمَئِذٍ فَرَحًا شَدِيدًا، فَمَرَّ غُلَامٌ لِلْمُغِيرَةِ وَكَانَ مِنْ أَقْرَانِي، فَقَالَ: إِنْ أُخِّرَ هَذَا فَلَنْ يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ"، وَاخْتَصَرَهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس نے کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، افسوس «ويلك» تم نے اس قیامت کے لیے کیا تیاری کر لی ہے؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لیے تو کوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو، جس سے تم محبت رکھتے ہو۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟ فرمایا کہ ہاں۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے، پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6167]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: ”اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے خرابی ہو! تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس نے کہا: ”میں نے تو اس کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کی، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور محبت کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو گے جن سے تم محبت رکھتے ہو۔“ ہم نے پوچھا: ”ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ پھر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام وہاں سے گزرا جو میرا ہم عمر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ زندہ رہا تو اس کو بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ قیامت آ جائے گی۔“ اس حدیث کو شعبہ نے قتادہ سے مختصر ذکر کرتے ہوئے کہا: ”میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 6167]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة