مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. مُسْنَدُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 71
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 128، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنُجَازَى بِكُلِّ سُوءٍ نَعْمَلُهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُكَ اللَّهُ يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْتَ تَنْصَبُ، أَلَسْتَ تَحْزَنُ، أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ؟ فَهَذَا مَا تُجْزَوْنَ بِهِ".
ابوبکر بن ابی زہیر کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ» [4-النساء:123] کہ ”تمہاری خواہشات اور اہل کتاب کی خواہشات کا کوئی اعتبار نہیں، جو برا عمل کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا“، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہمیں ہر برے عمل کی سزا دی جائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابوبکر! اللہ آپ پر رحم فرمائے؟ کیا آپ بیمار نہیں ہوتے؟ کیا آپ پریشان نہیں ہوتے؟ کیا آپ غمگین نہیں ہوتے؟ کیا آپ رنج و تکلیف کا شکار نہیں ہوتے؟ یہی تو بدلہ ہے۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 71]
حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 72
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخَذْتُ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُمْ:" إِنَّ هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلَا يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ، فَفِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنِ ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَثَلَاثِينَ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ، فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَسَبْعِينَ، فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا. وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ، فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ، فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ، إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمتُصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف ایک خط لکھا جس میں یہ تحریر فرمایا کہ یہ زکوٰۃ کے مقررہ اصول ہیں جو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے مقرر فرمائے ہیں، یہ وہی اصول ہیں جن کا حکم اللہ نے اپنے پیغمبر کو دیا تھا، ان اصولوں کے مطابق جب مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جائے تو انہیں زکوٰۃ ادا کر دینی چاہئے اور جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے وہ زیادہ نہ دے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ پچیس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری واجب ہو گی، جب اونٹوں کی تعداد پچیس ہو جائے تو ایک بنت مخاض (جو اونٹنی دوسرے سال میں لگ گئی ہو) واجب ہو گی اور یہی تعداد پینتیس اونٹوں تک رہے گی، اگر کسی کے پاس بنت مخاض نہ ہو تو وہ ایک ابن لبون مذکر (جو تیسرے سال میں لگ گیا ہو) دے دے، جب اونٹوں کی تعداد چھتیس ہو جائے تو اس میں پینتالیس تک ایک بنت لبون واجب ہو گی، جب اونٹوں کی تعداد چھیالیس ہو جائے تو اس میں ایک حقہ (چوتھے سال میں لگ جانے والی اونٹنی) کا وجوب ہو گا جس کے پاس رات کو نر جانور آ سکے۔ یہ حکم ساٹھ تک رہے گا، جب یہ تعداد اکسٹھ ہو جائے تو پچہتر تک اس میں ایک جذعہ (جو پانچویں سال میں لگ جائے) واجب ہو گا، جب یہ تعداد چھہتر ہو جائے تو نوے تک اس میں دو بنت لبون واجب ہوں گی، جب یہ تعداد اکیانوے ہو جائے تو ایک سو بیس تک اس میں دو ایسے حقے ہوں گے جن کے پاس نر جانور آ سکے، جب یہ تعداد ایک سو بیس سے تجاوز کر جائے تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس میں ایک حقہ واجب ہو گا۔ اور اگر زکوٰۃ کے اونٹوں کی عمریں مختلف ہوں تو جس شخص پر زکوٰۃ میں جذعہ واجب ہو لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو، حقہ ہو تو اس سے وہی قبول کر لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس صرف جذعہ ہو تو اس سے وہ لے کر زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں دے دے اور اگر اسی مذکورہ شخص کے پاس بنت لبون ہو تو اس سے وہ لے کردو بکریاں بشرطیکہ آسانی سے ممکن ہو یا بیس درہم وصول کئے جائیں۔ اگر کسی شخص پر بنت لبون واجب ہو مگر اس کے پاس حقہ ہو تو اس سے وہ لے کر اسے زکوٰۃ وصول کرنے والا بیس درہم یا دو بکریاں دے دے اور اگر اسی مذکورہ شخص کے پاس بنت مخاض ہو تو اس سے وہی لے کر وہ بکریاں بشرط آسانی یا بیس درہم بھی وصول کئے جائیں اور اگر کسی شخص پر بنت مخاض واجب ہو اور اس کے پاس صرف ابن لبون مذکر ہو تو اسی کو قبول کر لیا جائے اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں لی جائے گی اور اگر کسی شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہے ہاں! البتہ اگر مالک کچھ دینا چاہے تو اس کی مرضی پر موقوف ہے۔ سائمہ (خود چر کر اپنا پیٹ بھرنے والی) بکریوں میں زکوٰۃ کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب بکریوں کی تعداد چالیس ہو جائے ایک سو بیس تک اس میں صرف ایک بکری واجب ہوگی، ایک سو بیس سے زائد ہونے پر دو سو تک دو بکریاں واجب ہوں گی، دو سو سے زائد ہونے پر تین سو تک تین بکریاں واجب ہوں گی، اس کے بعد ہر سو میں ایک بکری دینا واجب ہو گی۔ یاد رہے کہ زکوٰۃ میں انتہائی بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے، اسی طرح خوب عمدہ جانور بھی نہ لیا جائے ہاں! اگر زکوٰۃ دینے والا اپنی مرضی سے دینا چاہے تو اور بات ہے، نیز زکوٰۃ سے بچنے کے لئے متفرق جانوروں کو جمع اور اکٹھے جانوروں کو متفرق نہ کیا جائے اور یہ کہ اگر دو قسم کے جانور ہوں (مثلاً بکریاں بھی اور اونٹ بھی) تو ان دونوں کے درمیاں برابری سے زکوٰۃ تقسیم ہو جائے گی، نیز یہ کہ اگر کسی شخص کی سائمہ بکریوں کی تعداد چالیس سے کم ہو تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ اس کا مالک خود دینا چاہے، نیز چاندی کے ڈھلے ہوئے سکوں میں ربع عشر واجب ہو گا، سو اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک سو نوے درہم ہوں تو اس پر کچھ واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ اس کا مالک خود زکوٰۃ دینا چاہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 72]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1448
حدیث نمبر: 73
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَهْلُ مَكَّةَ يَقُولُونَ: أَخَذَ ابْنُ جُرَيْجٍ الصَّلَاةَ مِنْ عَطَاءٍ ، وَأَخَذَهَا عَطَاءٌ مِنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، وَأَخَذَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنَ ابْنِ جُرَيْجٍ.
عبدالرزاق کہتے ہیں کہ اہل مکہ کہا کرتے تھے ابن جریج نے نماز سیدنا عطاء بن ابی رباح سے سیکھی ہے، عطاء نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے نانا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی ہے، عبدالرزاق کہتے ہیں کہ میں نے ابن جریج سے بڑھ کر بہتر نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 73]
حکم دارالسلام: هذا أثر وليس حديثاً. وهو فى الثناء على صلاة ابن جريج وأنه يحسن أداءها على ما أخذ عملاً عن عطاء. قاله أحمد شاكر
حدیث نمبر: 74
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسٍ أَوْ حُذَيْفَةَ بْنِ حُذَافَةَ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ:" إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، قَالَ: سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، فَلَقِيَنِي، فَقَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ ابْنَةَ عُمَرَ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، فَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا حِينَ عَرَضْتَهَا عَلَيَّ، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا، وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا".
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری بیٹی حفصہ کے شوہر خنیس بن حذافہ یا حذیفہ فوت ہو گئے اور وہ بیوہ ہو گئی، یہ بدری صحابی تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے تھے، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کے سامنے اپنی بیٹی سے نکاح کی پیشکش رکھی انہوں نے مجھ سے سوچنے کی مہلت مانگی اور چند روز بعد کہہ دیا کہ آج کل میرا شادی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اس کے بعد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے بھی یہی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا نکاح آپ سے کر دوں، لیکن انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، مجھے ان پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نسبت زیادہ غصہ آیا۔ چند دن گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ کے ساتھ اپنے لئے پیغام نکاح بھیج دیا، چنانچہ میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا، اتفاقاً ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو وہ فرمانے لگے کہ شاید آپ کو اس بات پر غصہ آیا ہو گا کہ آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کی پیشکش کی اور میں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا؟ میں نے کہا ہاں! ایسا ہی ہے، انہوں نے فرمایا کہ دراصل بات یہ ہے کہ جب آپ نے مجھے یہ پیشکش کی تھی تو مجھے اسے قبول کر لینے میں کوئی حرج نہیں تھا، البتہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حفصہ کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیتے تو میں ضرور ان سے نکاح کر لیتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 74]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 5129
حدیث نمبر: 75
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ مُسْلِمٍ أَبَا سَلَمَةَ ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَأَيْتَامًا؟ قَالَ:" بَلَى، فَأَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلَادِكُمْ، وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ"، قَالُوا: فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فَرَسٌ صَالِحٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ، فَإِذَا صَلَّى، فَهُوَ أَخُوكَ".
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بد اخلاق شخص جنت میں نہ جائے گا“، اس پر ایک شخص نے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ ہی نے ہمیں نہیں بتایا کہ سب سے زیادہ غلام اور یتیم اس امت میں ہی ہوں گے؟ (یعنی ان کے ساتھ بد اخلاق کا ہو جانا ممکن ہی نہیں بلکہ واقع بھی ہے) فرمایا: ”کیوں نہیں!“ فرمایا: ”کیوں نہیں! البتہ تم ان کی عزت اسی طرح کرو جیسے اپنی اولاد کی عزت کرتے ہو اور جو خود کھاتے ہو اسی میں سے انہیں بھی کھلایا کرو“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس کا دنیا میں ہمیں کیا فائدہ ہو گا؟ فرمایا: ”وہ نیک گھوڑا جسے تم تیار کرتے ہو، اس پر تم اللہ کے راستہ میں جہاد کر سکتے ہو اور تمہارا غلام تمہاری کفایت کر سکتا ہے، یاد رکھو! اگر وہ نماز پڑھتا ہے، تو وہ تمہارا بھائی ہے“، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دہرائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 75]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي
حدیث نمبر: 76
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَقْتَلَ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَإِذَا عُمَرُ عِنْدَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي، فَقَالَ:" إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ بِأَهْلِ الْيَمَامَةِ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَنَا أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ، فَيَذْهَبَ قُرْآنٌ كَثِيرٌ لَا يُوعَى، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْمُرَ بِجَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ لِعُمَرَ: وَكَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ، فَلَمْ يَزَلْ يُرَاجِعُنِي فِي ذَلِكَ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ بِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ فِيهِ الَّذِي رَأَى عُمَرُ، قَالَ زَيْدٌ: وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّكَ شَابٌّ عَاقِلٌ لَا نَتَّهِمُكَ، وَقَدْ كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْمَعْهُ. قَالَ زَيْدٌ: فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفُونِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ، مَا كَانَ بِأَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ تَفْعَلُونَ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے پاس جنگ یمامہ کے شہداء کی خبر دے کر قاصد کو بھیجا، میں جب ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جنگ یمامہ میں بڑی سخت معرکہ آرائی ہوئی ہے اور مسلمانوں میں سے جو قراء تھے وہ بڑی تعداد میں شہید ہو گئے ہیں، مجھے اندیشہ ہے کہ اگر اسی طرح مختلف جگہوں میں قراء کرام یونہی شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کہیں ضائع نہ ہو جائے کہ اس کا کوئی حافظ ہی نہ رہے، اس لئے میری رائے یہ ہوئی کہ میں آپ کو جمع قرآن کا مشورہ دوں، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا، میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں؟ لیکن انہوں نے مجھ سے کہا کہ بخدا! یہ کام سراسر خیر ہی خیر ہے اور یہ مجھ سے مسلسل اس پر اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ اس مسئلے پر اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی شرح صدر عطاء فرما دیا اور اس سلسلے میں میری بھی وہی رائے ہو گئی جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے لیکن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ادب سے بولتے نہ تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی نے فرمایا کہ آپ ایک سمجھدار نوجوان ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی بھی رہ چکے ہیں، اس لئے جمع قرآن کا یہ کام آپ سر انجام دیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بخدا! اگر یہ لوگ مجھے کسی پہاڑ کو اس کی جگہ سے منتقل کرنے کا حکم دے دیتے تو وہ مجھ پر جمع قرآن کے اس حکم سے زیادہ بھاری نہ ہوتا، چنانچہ میں نے بھی ان سے یہی کہا کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا، آپ وہ کام کیوں کر رہے ہیں؟ (لیکن جب میرا بھی شرح صدر ہو گیا تو میں نے یہ کام شروع کیا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 76]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4986
حدیث نمبر: 77
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى الْعَبَّاسِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ، خَاصَمَ الْعَبَّاسُ عَلِيًّا فِي أَشْيَاءَ تَرَكَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" شَيْءٌ تَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُحَرِّكْهُ، فَلَا أُحَرِّكُهُ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ، فَقَالَ شَيْءٌ لَمْ يُحَرِّكْهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَسْتُ أُحَرِّكُهُ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُثْمَانُ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَسْكَتَ عُثْمَانُ وَنَكَسَ رَأْسَهُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَخَشِيتُ أَنْ يَأْخُذَهُ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي بَيْنَ كَتِفَيْ الْعَبَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا سَلَّمْتَهُ لِعَلِيٍّ، قَالَ: فَسَلَّمَهُ لَهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک پرواز کر گئی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہو گئے، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اختلاف رائے پیدا ہو گیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز چھوڑ کر گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں ہلایا، میں بھی اسے نہیں ہلاؤں گا۔ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو وہ دونوں حضرات ان کے پاس اپنا معاملہ لے کر آئے لیکن انہوں نے یہی فرمایا کہ جس چیز کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نہیں ہلایا، میں بھی اسے نہیں ہلاؤں گا، جب خلافت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو وہ دونوں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھی آئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کا موقف سن کر خاموشی اختیار کی اور سر جھکا لیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے حکومت کی تحویل میں نہ لے لیں چنانچہ میں اپنے والد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھا اور ان سے کہا: اباجان! میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں کہ اسے علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیجئے چنانچہ انہوں نے اسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 77]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 78
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي تَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي فُلَانٌ، وَفُلَانٌ، وَفُلَانٌ، فعد ستة أو سبعة، كلهم من قريش، فيهم عبد الله بن الزبير ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ، إِذْ دَخَلَ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَدْ ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ : مَهْ يَا عَبَّاسُ، قَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ، تَقُولُ ابْنُ أَخِي، وَلِي شَطْرُ الْمَالِ، وَقَدْ عَلِمْتُ مَا تَقُولُ يَا عَلِيُّ، تَقُولُ: ابْنَتُهُ تَحْتِي، وَلَهَا شَطْرُ الْمَالِ، وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ، فَوَلِيَهُ أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ، فَعَمِلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِيتُهُ مِنْ بَعْدِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَحْلِفُ بِاللَّهِ لَأَجْهَدَنَّ أَنْ أَعْمَلَ فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ، وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَحَلَفَ بِأَنَّهُ لَصَادِقٌ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ، وَإِنَّمَا مِيرَاثُهُ فِي فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَالْمَسَاكِينِ"، وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَحَلَفَ بِاللَّهِ إِنَّهُ صَادِقٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَؤُمَّهُ بَعْضُ أُمَّتِهِ". وَهَذَا مَا كَانَ فِي يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدْ رَأَيْنَا كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِيهِ، فَإِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا لِتَعْمَلَا فِيهِ بِعَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمَلِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمَا، قَالَ: فَخَلَوَا ثُمَّ جَاءَا، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: ادْفَعْهُ إِلَى عَلِيٍّ، فَإِنِّي قَدْ طِبْتُ نَفْسًا بِهِ لَهُ.
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آ گئے، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عباس! رک جائیے، مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ آپ یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے بھتیجے تھے اس لئے آپ کو نصف مال ملنا چاہئے اور اے علی! مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ آپ کی رائے یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی آپ کے نکاح میں تھیں اور ان کا آدھا حصہ بنتا تھا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں جو کچھ تھا، وہ میرے پاس موجود ہے، ہم نے دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس میں کیا طریقہ کار تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے، انہوں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے خلیفہ بنایا گیا، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا، میں اسی طرح کرنے کی پوری کوشش کرتا رہوں گا۔ پھر فرمایا کہ مجھے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی اور اپنے سچے ہونے پر اللہ کی قسم بھی کھائی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ان کا ترکہ فقراء مسلمین اور مساکین میں تقسیم ہوتا ہے اور مجھ سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی اور اپنے سچا ہونے پر اللہ کی قسم بھی کھائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کوئی نبی اس وقت تک دنیا سے رخصت نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے کسی امتی کی اقتداء نہیں کر لیتا۔“ بہرحال! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ تھا، وہ یہ موجود ہے اور ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کار کو بھی دیکھا ہے، اب اگر آپ دونوں چاہتے ہیں کہ میں یہ اوقاف آپ کے حوالے کر دوں اور آپ اس میں اسی طریقے سے کام کریں گے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کرتے رہے تو میں اسے آپ کے حوالے کر دیتا ہوں۔ یہ سن کر وہ دونوں کچھ دیر کے لئے خلوت میں چلے گئے، تھوڑی دیر کے بعد جب وہ واپس آئے تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ یہ اوقاف علی کے حوالے کر دیں، میں اپنے دل کی خوشی سے اس بات کی اجازت دیتا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 78]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: إن النبى لا يموت حتى يؤمه بعض أمته وهذا إسناد ضعيف لجهالة الشيخ من قريش
حدیث نمبر: 79
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَاءَتْ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، تطلب ميراثها من رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: إِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنِّي لَا أُورَثُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کیا، دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے مال میں وراثت جاری نہیں ہو گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 79]
حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 80
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ خَلِيفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَهْرٍ، فَذَكَرَ قِصَّةً، فَنُودِيَ فِي النَّاسِ:" أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، وَهِيَ أَوَّلُ صَلَاةٍ فِي الْمُسْلِمِينَ نُودِيَ بِهَا إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، شَيْئًا صُنِعَ لَهُ كَانَ يَخْطُبُ عَلَيْهِ، وَهِيَ أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، وَلَوَدِدْتُ أَنَّ هَذَا كَفَانِيهِ غَيْرِي، وَلَئِنْ أَخَذْتُمُونِي بِسُنَّةِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُطِيقُهَا، إِنْ كَانَ لَمَعْصُومًا مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنْ كَانَ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ مِنَ السَّمَاءِ".
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال مبارک کے ایک مہینے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، لوگوں میں منادی کر دی گئی کہ نماز تیار ہے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد وہ پہلی نماز تھی جس کے لئے مسلمانوں میں ”الصلوۃ جامعۃ“ کہہ کر منادی کی گئی تھی، چنانچہ لوگ جمع ہو گئے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر پر رونق افروز ہوئے، یہ آپ کا پہلا خطبہ تھا جو آپ نے اہل اسلام کے سامنے ارشاد فرمایا: اس خطبے میں آپ نے پہلے اللہ کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: لوگو! میری خواہش تھی کہ میرے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس کام کو سنبھال لیتا، اگر آپ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر رکھ کر دیکھنا چاہیں گے تو میرے اندر اس پر پورا اترنے کی طاقت نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو شیطان کے حملوں سے محفوط تھے اور ان پر تو آسمان سے وحی کا نزول ہوتا تھا (اس لئے میں ان کے برابر کہاں ہو سکتا ہوں؟)۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 80]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عيسي بن المسيب